Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 26

  1. كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَۙ﴿26﴾

    1. كَلَّآہاں ہاں
    2. اِذَا بَلَغَتِجب پہنچ جائے
    3. التَّرَاقِيَہنسلی تک
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہرگز نہیں، جب کہ جان ہنسلی میں آپھنسے گی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عیش دنیا کے متوالوں کو موت اور آخرت کی یاددہانی: عیش دنیا کے متوالوں کو یہ موت کی جان کنی اور اس وقت کی مایوسی و بے بسی کی یاددہانی ہے کہ قیامت کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ وہ لازماً آئے گی اور تمہیں خدا کی طرف اس دن سفر کرنا ہو گا جب تمہاری ساری جولانیاں ختم ہو جائیں گی اور بے بسی کا یہ حال ہو گا کہ پنڈلی سے پنڈلی لپٹی ہوئی ہو گی۔ بہتر ہے کہ اس سے پہلے کہ جان ہنسلی میں آ پھنسے اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ کے رہ جائے خدا کی طرف بھاگو اور اس سفر کے لیے کچھ سامان کر لو۔ استاذ امام علیہ الرحمۃ نے جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح تحقیق پر مبنی ہے۔ ان کی تفسیر سے ہم اس کا ضروری خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ مولاناؒ فرماتے ہیں: ’’’بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ‘ میں ضمیر نفس کے لیے ہے جو یہاں محذوف ہے۔ اس حذف کی مثال سورۂ واقعہ میں بھی ہے۔ فرمایا ہے: ’فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ‘ (الواقعہ ۵۶: ۸۳) (کیوں نہیں جب کہ جان حلق کو پہنچ جاتی ہے!) اس طرح کا حذف عربی میں معروف ہے اس وجہ سے ’نفس‘ کا ذکر ضروری نہیں ہوا۔ کلام عرب میں بھی اس کی مثالیں موجود ہیں۔ حاتم طائی کہتا ہے: اماوی ما یغنی الثراء عن الفتی اذا حشرجت یومًا وضاق بھا الصدر (اے ماویہ! مال آدمی کے کیا کام آئے گا جب جان سینے میں پھنسے گی) اس میں ’حشرجت‘ کا فاعل نفس ہے لیکن اسی قاعدے کے مطابق جو مذکور ہوا، اس کو حذف کر دیا۔ قرآن مجید میں بھی اس حذف کی مثالیں موجوود ہیں۔ مثلاً ’مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہْرِہَا مِنۡ دَابَّۃٍ‘ (فاطر ۴۵) (اور زمین کی پشت پر کوئی جاندار جیتا نہ چھوڑتا) اس میں دیکھ لیجیے ضمیر کا مرجع ’الارض‘ ہے جو محذوف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘(ماخوذ ازتفسیر سورۂ قیامہ مؤلفہ امام فراہیؒ)