Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 27

  1. وَ قِیْلَ مَنْ١ٚ رَاقٍۙ﴿27﴾

    1. وَقِيْلَاور کہا جائے
    2. مَنْکون
    3. ۫رَاقٍجھاڑ پھونک کرنیوالا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور کہا جائے گا اب کون ہے جھاڑ پھونک کرنیوالا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
عیش دنیا کے متوالوں کو موت اور آخرت کی یاددہانی: عیش دنیا کے متوالوں کو یہ موت کی جان کنی اور اس وقت کی مایوسی و بے بسی کی یاددہانی ہے کہ قیامت کو بعید از امکان نہ سمجھو۔ وہ لازماً آئے گی اور تمہیں خدا کی طرف اس دن سفر کرنا ہو گا جب تمہاری ساری جولانیاں ختم ہو جائیں گی اور بے بسی کا یہ حال ہو گا کہ پنڈلی سے پنڈلی لپٹی ہوئی ہو گی۔ بہتر ہے کہ اس سے پہلے کہ جان ہنسلی میں آ پھنسے اور پنڈلی پنڈلی سے لپٹ کے رہ جائے خدا کی طرف بھاگو اور اس سفر کے لیے کچھ سامان کر لو۔ استاذ امام علیہ الرحمۃ نے جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح تحقیق پر مبنی ہے۔ ان کی تفسیر سے ہم اس کا ضروری خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ مولاناؒ فرماتے ہیں: ’’’وَقِیْلَ مَنْ رَاقٍ‘ (اور پکاریں گے، ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا!) یہ فقرہ صورت حال کی شدت و نزاکت کی تعبیر کے لیے ہے اور مجہول کا صیغہ یہاں غایت درجہ بلیغ ہے۔ گویا ایسا سخت وقت ہو گا کہ کوئی شخص قائل کی طرف توجہ کرنے والا نہیں ہو گا، یا یوں کہو کہ اس قول کی اہمیت خود قائل کی ذات سے بالکل بے پروا کر دے گی۔ ہر شخص کی زبان پر بس یہی کلمہ ہو گا۔ نکرہ سے پہلے ’مَنْ‘ یا تو شدت طلب کے لیے آتا ہے یا غلبۂ یاس کی تعبیر کے لیے۔ طرفہ کا شعر ہے: اذا القوم قالوا من فتی خلت اننی عنیت فلم اکسل ولم ابتلد (جب قوم پکارتی ہے کہ ہے کوئی جوان! تو میں سمجھ جاتا ہوں کہ ان کا اشارہ میری ہی طرف ہے، پھر میں کسی سستی اور بودے پن کا اظہار نہیں کرتا)۔ اب دیکھیے کہ یہاں آیت کا کیا منشا ہے اور یہ اسلوب کس مقصد کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ہمارے نزدیک یہاں دو تاویلوں کا احتمال ہے اور ان دونوں میں فرق محض ظاہری ہے۔ پہلی تاویل یہ ہے کہ جب موت کی بے ہوشی طاری ہو گی اور جان سینے میں گھٹنے لگے گی تو تیماردار گھبرا کر پکاریں گے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا جو اس جاں بلب کا علاج کرے! دوسری تاویل یہ ہے کہ وہ کہیں گے کہ بس اب معاملہ آخر ہو چکا! اب کون اس کو شفا دے سکتا ہے! یہ اظہار یاس کا فقرہ ہے اور یہ سن کر مریض کو یقین ہو جائے گا کہ بس اب چل چلاؤ کا وقت ہے۔ مشہور شاعر خنساء نے اس مضمون کو یوں ادا کیا ہے: لکن سھام المنایا من یصبن لہ لم یشفہٗ طب ذی طب و لاراق (جس کو موت کے تیر ترازو ہو گئے اس کو نہ کسی طبیب کی خداقت شفا دے سکتی نہ کسی جھاڑ پھونک والے کی جھاڑ پھونک) یہ دو تاویلیں ہو سکتی ہیں۔ ہم نے دونوں سامنے رکھ دی ہیں۔ جو چاہو اختیار کر سکتے ہو لیکن ہمارے نزدیک دوسری تاویل نظم کلام سے زیادہ لگتی ہوئی ہے۔‘‘(ماخوذ ازتفسیر سورۂ قیامہ مؤلفہ امام فراہیؒ)