Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 29

  1. وَ الْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِۙ﴿29﴾

    1. وَالْتَفَّتِاور لپٹ جائے
    2. السَّاقُایک پنڈلی
    3. بِالسَّاقِدوسری پنڈلی سے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور پنڈی پنڈی سے لپٹ جائے گی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
استاذ امام علیہ الرحمۃ نے جو کچھ لکھا ہے وہ صحیح تحقیق پر مبنی ہے۔ ان کی تفسیر سے ہم اس کا ضروری خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کرتے ہیں۔ مولاناؒ فرماتے ہیں: ’’’وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے مولاناؒ لکھتے ہیں: ’’پنڈلی سے پنڈلی لپٹنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی چل نہ سکے گا۔ یہ حالت شدت ضعف و بے بسی کے سبب سے ہو گی۔ آدمی جب تک زندہ اور طاقت ور ہے ہر میدان میں جولانیاں کرتا ہے۔ جب مر جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی پنڈلیاں باہم دگر لپٹ گئی ہیں ضعف و بے بسی کی تعبیر کے لیے التفاق ساق (پنڈلی کا لپٹ جانا) نہایت موزوں تعبیر ہے۔ مدعا کلام کا یہ ہے کہ جب معالج مریض سے مایوس، اعزہ و اقرباء دست بردار، فرماں بردار اعضاء قابو سے باہر ہو جائیں گے اور ایک بھاری بوجھ کے ساتھ اس کو رب کی طرف جانا ہو گا، سہارا دینے والا کوئی نہ ہو گا، تو اس وقت اس کا کیا حال ہو گا؟ بعض لوگوں نے ’ساق‘ کے معنی ’شدت امر‘ کے لیے ہیں۔ لیکن یہ قول ان لوگوں کا ہے جن کو عربی زبان سے کوئی مس نہیں ہے۔ یہ لوگ اجزاء اور مجموعہ کی دلالت میں کوئی فرق نہیں سمجھتے۔ بلاشبہ ’کشف عن الساق‘ اپنی مجموعی صورت میں سرگرمی، مستعدی اور آمادگی کے مفہوم کے لیے عربی میں معروف ہے مگر جب یہ دونوں لفظ الگ الگ آئیں گے تو ’کشف‘ کے معنی کھولنے اور ’ساق‘ کے معنی پنڈلی کے ہوں گے۔ یہ نہیں ہے کہ یہ الگ الگ بھی اسی مفہوم کو ادا کریں۔ حضرت ابن عباسؓ سے ایک روایت ہے کہ ’ساق‘ سے مراد دنیا کا آخری دن اور آخرت کا پہلا دن ہے۔ ہمارا خیال یہ ہے کہ روایت کرنے والوں کو کچھ وہم ہوا ہے۔ اگر روایت صحیح ہے تو اس کو بیان واقعہ سمجھنا چاہیے نہ کہ ’ساق‘ کی تفسیر۔‘‘(ماخوذ ازتفسیر سورۂ قیامہ مؤلفہ امام فراہیؒ)