تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 31
فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰىۙ﴿31﴾
- فَلَا صَدَّقَنہ اس نے تصدیق کی
- وَلَا صَلّٰىنہ اس نے نماز پڑھی
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سفر دشوار اور زاد و راحلہ کچھ نہیں:
یہ ان مکذبین آخرت کی محرومی کا بیان ہے کہ سفر تو ان کو اتنا کٹھن درپیش ہے لیکن زاد و راحلہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے۔ نہ انھوں نے خدا کی راہ میں انفاق کیا نہ نماز پڑھی درآنحالیکہ یہی دو چیزیں اس سفر میں کام آنے والی تھیں۔
’صَدَّقَ‘ کے بعد ’بِالْحُسْنٰی‘ کا لفظ بربنائے وضاحت قرینہ محذوف ہے۔ سورۂ لیل میں اس کی وضاحت یوں فرمائی ہے:
’فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی ہ وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی ہ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی‘ (الیل ۹۲: ۵-۷)
پس جس نے اپنا مال راہ خدا میں دیا اور اپنے رب سے ڈرا اور آخرت کی جزائے حسن کی تصدیق کی تو اس کو ہم سہج راہ چلائیں گے)۔
یہ امر واضح رہے کہ خدا کی راہ میں انفاق ان لوگوں کے لیے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے جو آخرت اور اس کی جزائے حسن کے قائل نہ ہوں۔ یہ گھاٹی وہی لوگ پار کر سکتے ہیں جن کے دل مطمئن ہوں کہ دنیا میں جو کچھ وہ خرچ کریں گے آخرت میں ایک لازوال خزانہ کی صورت میں وہ ان کو ملنے والا ہے۔ آخرت کی جزا کا اعتقاد وہی ہے جو آدمی میں انفاق کا حوصلہ پیدا کرتا ہے، جو اس کو جھٹلانے والے ہوتے ہیں ان کی مٹھی انفاق کے لیے کبھی نہیں کھلتی۔ سورۂ لیل کی مذکورہ بالا آیت کے ساتھ ہی یہ حقیقت اس طرح واضح فرمائی گئی ہے:
’وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ وَاسْتَغْنٰی ہ وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی ہ فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی‘ (الیل ۹۲: ۸-۱۰)
(رہا وہ جس نے بخیلی کی اور بے پروا ہوا اور جزائے حسن کی تکذیب کی تو ہم اس کو ایک کٹھن راہ چلائیں گے)۔
ان آیات کی روشنی میں ’فَلَا صَدَّقَ‘ کا مفہوم یہ ہو گا کہ اس نے نہ آخرت کی جزائے حسن کی تصدیق کی اور نہ اپنے رب کی راہ میں خرچ کیا۔ گویا اس لفظ کے اندر تکذیب آخرت اور بخالت دونوں کا مفہوم مضمر ہے۔ اس کے بعد فرمایا کہ ’وَلَا صَلّٰی‘ (اور نہ اس نے نماز پڑھی) گویا انفاق اور نماز دونوں کا اصل محرک جزائے اعمال کا اعتقاد ہے اور جب یہ اعتقاد ہی معدوم ہے تو ان کے وجود پذیر ہونے کا کیا امکان باقی رہا۔
یہاں وہ بات بھی یاد رکھیے جس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوتی آ رہی ہے کہ نماز اور انفاق ہی دین کے وہ بنیادی اعمال ہیں جن پر پوری شریعت قائم ہے۔ اب اس آیت سے یہ حقیقت بھی معلوم ہوئی کہ ان دونوں کا انحصار آدمی کے عقیدۂ آخرت پر ہے۔ جن کے اندر یہ عقیدہ محکم نہ ہو گا وہ ان کا اہتمام نہیں کر سکتے۔