تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 75. Al-Qiyaama · Ayah 33
ثُمَّ ذَهَبَ اِلٰۤى اَهْلِهٖ یَتَمَطّٰىؕ﴿33﴾
- ثُمَّ ذَهَبَپھر چلا گیا
- اِلٰٓىطرف
- اَهْلِهٖاپنے گھر والے
- يَتَمَطّٰىاکڑتا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اکڑتا ہوا اپنے لوگوں میں چل دیا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اعراض کی تصویر اور اس کا سبب: ’ثُمَّ ذَھَبَ اِلٰٓی اَھْلِہٖ یَتَمَطّٰی‘۔ یہ اس اعراض کی تصویر بھی ہے اور غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ اس میں اس کا سبب بھی بیان ہو گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر مال و اولاد کا گھمنڈ ہوتا ہے ان کو خدا اور آخرت سے ڈرایا جائے تو یہ تذکیر ان پر کارگر نہیں ہوتی۔ وہ اپنی رفاہیت و جمعیت کو اپنی روش کے صحیح اور کامیاب ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں اس وجہ سے ان لوگوں کی نصیحتیں خاطر میں نہیں لاتے جو ان کی روش میں کسی غلطی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ وہ ان سے اثرپذیر ہونے کے بجائے اکڑتے ہوئے اپنے اہل و عیال کی طرف چل دیتے ہیں کہ جب ہمیں یہ سب کچھ حاصل ہے تو یہ ہماری اقبال مندی کی دلیل ہوئی یا خرابی کی! خرابی ہمارے اندر نہیں بلکہ انھی لوگوں کے دماغوں کے اندر ہے جو خود تو ہر چیز سے محروم ہیں لیکن ہمیں ڈراوے سنا رہے ہیں کہ ہم تباہی کی راہ پر چل رہے ہیں۔
یہاں وہ بات یاد رکھیے جو قرآن میں، مختلف اسلوبوں سے، باربار بیان ہوئی ہے کہ اہل ایمان کی روش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے اہل و عیال کے اندر برابر خدا سے ڈرتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں کہ مبادا اس گلے کی نگہبانی کا حق ادا نہ ہو سکے اور وہ خدا کی کسی پکڑ میں آ جائیں۔ اہل ایمان کے اس احساس ذمہ داری کا اظہار قرآن میں یوں ہوا ہے:
’اِنَّا کُنَّا قَبْلُ فِیْٓ اَھْلِنَا مُشْفِقِیْنَ‘ (الطور ۵۲: ۲۶)
(ہم پہلے سے اپنے اہل و عیال کے باب میں ڈرنے والے رہے ہیں)۔
اس کے بالکل برعکس رویہ ان لوگوں کا ہوتا ہے جن کے سینے خوف خدا سے خالی ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اہل و عیال کو اپنے لیے سرمایۂ فخر و نازش اور ان کو اپنی اقبال مندی کی دلیل سمجھتے ہیں اس وجہ سے ان کے دماغ پر وہی نشہ سوار ہوتا ہے جو سورۂ کہف میں ایک باغ والے کے قصہ میں بیان ہوا ہے کہ
’مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ ھٰذِہٖٓ اَبَدًا‘ (الکہف ۱۸: ۳۵)
(میں یہ گمان نہیں رکھتا کہ یہ کبھی تباہ ہو جائے گا)۔
اسی طرح کے لوگوں کی ذہنیت سورۂ مطففین میں بدیں الفاظ بیان ہوئی ہے:
’وَاِذَا انْقَلَبُوْٓا اِلٰٓی اَھْلِھِمُ انْقَلَبُوْا فَکِھِیْنَ‘ (امطففین ۸۳: ۳۱)
(اور جب وہ اپنے اہل کی طرف لوٹتے ہیں تو مگن ہو کر لوٹتے ہیں)۔