تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 76. Al-Insaan · Ayah 27
اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ یُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ وَ یَذَرُوْنَ وَرَآءَهُمْ یَوْمًا ثَقِیْلًا﴿27﴾
- اِنَّبیشک
- هٰٓؤُلَآءِیہ (منکر) لوگ
- يُحِبُّوْنَوہ دوست رکھتے ہیں
- الْعَاجِلَةَدنیا
- وَيَذَرُوْنَاور چھوڑدیتے ہیں
- وَرَآءَهُمْاپنے پیچھے
- يَوْمًاایک دن
- ثَقِيْلًابھاری
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوگ صرف دنیائے عاجل سے محبت رکھتے اور اپنے آگے ایک بھاری دن کو نظر انداز کررہے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مخالفین کی اصل بیماری:
یہ نبی ﷺ کی تسلی کے لیے آپ کے مخالفین کی اصل بیماری کا پتا دیا ہے کہ یہ لوگ تمہارے انذار پر جو شبہات وارد کر رہے ہیں یہ محض اصل حقیقت پر پردہ ڈالنے کے لیے ان کی سخن سازی ہے۔ ان کی اصل بیماری یہ ہے کہ اس دنیا کی لذت عاجل کے پرستار ہیں۔ آخرت کی خاطر وہ اس نقد کو چھوڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ خواہ آخرت کا دن کتنا ہی کٹھن کیوں نہ ہو اپنی اس دنیا پرستی کو چھپائے رکھنے کے لیے وہ قیامت پر بعض بناوٹی قسم کے شبہات کا اظہار کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ تاثر دے سکیں کہ یہ لوگ تمہاری بات جو نہیں مان رہے ہیں تو اس کا سبب محض ضد اور انانیت نہیں بلکہ اس کے کچھ وجوہ ہیں۔