تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 12
قَالُوْا تِلْكَ اِذًا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۘ﴿12﴾
- قَالُوْا تِلْكَانہوں نے کہا یہ
- اِذًاتب
- كَرَّةٌ خَاسِرَةٌواپسی ہے گھاٹے کی/ خسارے کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ لوٹایا جانا تو بڑے ہی خسارے کا ہوگا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’قَالُوْا تِلْکَ إِذًا کَرَّۃٌ خَاسِرَۃٌ‘۔ یعنی مذاق اڑانے کے بعد ذرا سنجیدہ موڈ بنا کر یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر یہ بات جو یہ ملّا کہتے ہیں سچی نکلی تب تو یہ بڑی ہی نامرادی اور بڑے خسارے کا لوٹنا ہو گا!
اگرچہ یہ بات سنجیدہ موڈ بنا کر کہتے وہ مذاق ہی کے طور پر لیکن یہ ان کے باطن کی غمازی بھی کرتی ہے کہ قیامت کی تکذیب پر ان کا دل مطمئن نہیں تھا۔ وہ اس کے دلائل کے وزن کو محسوس کرتے اور اس کے انکار کے عواقب سے ڈرتے لیکن زندگی کی لذتوں کو طلاق دے کر ان کی طبیعت ادھر آنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی اس وجہ سے اس خطرے کو ہنسی میں ٹالنے کی کوشش کرتے اور کہتے کہ قیامت ہوئی تو ہے تو یہ بہت بڑا خطرہ لیکن جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا، ابھی سے اس کی فکر میں اپنے اوپر نیند حرام کیوں کی جائے! یہ امر یہاں واضح رہے کہ بے فکروں کا اصلی فلسفہ یہی ہے جس پر وہ زندگی گزارتے ہیں حالانکہ آخرت کا گمان اگر کسی درجے میں بھی ہے تو پھر دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ آدمی اس کو پیش نظر رکھ کر ہی زندگی گزارے۔