Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 27

  1. ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَآءُ١ؕ بَنٰىهَاٙ﴿27﴾

    1. ءَاَنْتُمْکیا تم
    2. اَشَدُّ خَلْقًازیادہ سخت ہو تخلیق میں
    3. اَمِ السَّمَآءُ ۭیا آسمان
    4. بَنٰىهَااس نے بنایا اس کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا تمہارا بنانا زیادہ دشوار ہے یا آسمان کا ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آسمان و زمین کی نشانیوں سے استدلال: اب آگے کی سات آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت اور ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو آسمان و زمین کے ہر گوشے میں پھیلی ہوئی ہیں اور اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اس دنیا کا خالق ایسی عظیم قدرت والا ہے کہ کوئی بڑے سے بڑا کام بھی اس کے لیے مشکل نہیں ہے۔ جب وہ آسمان جیسی عظیم چیز کو پیدا کر سکتا ہے تو لوگوں کے مرکھپ جانے کے بعد ان کو دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا اس کے لیے کیا دشوار ہے؟ اسی طرح آسمان سے لے کر زمین تک اپنی ربوبیت کا جو اہتمام اس نے پھیلا رکھا ہے وہ اس بات کا شاہد ہے کہ وہ لوگوں کو غیر مسؤل نہیں چھوڑے گا بلکہ ایک دن لازماً سب کو اکٹھا کرے گا اور یہ دیکھے گا کہ کس نے اس کی نعمتوں کا حق پہچانا اور کس نے ناشکری کی اور پھر ان کے اعمال کے مطابق ان کو جزا یا سزا دے گا۔ گویا منکرین قیامت کے جس شبہے کا آیات ۱۰-۱۲ میں حوالہ دیا گیا ہے اس کا جواب بھی دے دیا گیا اور ساتھ ہی قیامت کی ضرورت اور حکمت بھی واضح فرما دی گئی ہے۔ ’ءَ اَنْتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ السَّمَآءُ بَنَاہَا‘۔ فرمایا کہ اگر تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ مرنے اور ہڈیوں کے بوسیدہ ہو جانے کے بعد تم دوبارہ کس طرح زندہ کیے جا سکتے ہو تو سوچو کہ یہ عظیم آسمان جو تمہارے سروں پر پھیلا ہوا ہے، اس کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا تمہارا پیدا کیا جانا؟ اگر اس کائنات کا خالق اس آسمان کے بنانے پر قادر ہو سکتا ہے تو دوسرا کون سا کام ہے جو اس سے زیادہ مشکل ہے کہ وہ اس پر قادر نہ ہو سکے گا!