تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 79. An-Naazi'aat · Ayah 42
یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَاؕ﴿42﴾
- يَسْئَلُوْنَكَوہ سوال کرتے ہیں آپ سے
- عَنِ السَّاعَةِقیامت کے بارے میں
- اَيَّانَ مُرْسٰىهَاکب ہے ٹھہرنا اس کا
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے کھڑی ہوگی ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نبی صلعم کو تسلی:
یہ اور اس کے بعد خاتمۂ سورہ کی آیات ہیں جن میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ تم ان لوگوں کی پروا نہ کرو جو تمہیں زچ کرنے کے لیے قیامت کے ظہور کا وقت پوچھتے ہیں۔ تمہارا کام اس سے لوگوں کو آگاہ کر دینا ہے تاکہ جو متنبہ ہونا چاہیں وہ متنبہ ہو جائیں۔ رہے وہ جو اس کو دیکھ کر ماننا چاہتے ہیں اور اس کے ظہور کا وقت معلوم کرنے کے درپے ہیں ان کو مطمئن کرنا تمہاری ذمہ داری نہیں ہے۔ یہ انھوں نے محض اس کی تکذیب کے لیے ایک بہانہ بنایا ہے۔
’اَیَّانَ مُرْسَاہَا‘۔ یعنی یہ اس کے ظہور کے وقت سے متعلق سوال کرتے ہیں۔ ’اَیَّانَ‘ وقت مستقبل سے متعلق سوال کے لیے آتا ہے اس وجہ سے اس کا ترجمہ میرے نزدیک ’کہاں‘ صحیح نہیں ہو گا بلکہ ’کب‘ ہونا چاہیے۔
’مُرْسٰی‘ کے معنی لنگرانداز ہونے کے ہیں۔ اس لفظ میں یہاں ایک قسم کا طنز مضمر ہے۔ یعنی یہ منکرین پوچھتے ہیں کہ ہم کب سے یہ خبر سن رہے ہیں کہ بس قیامت آیا ہی چاہتی ہے لیکن اس کو نہ آنا تھا نہ آئی۔ آخر اس کا سفینہ ہمارے ساحل میں کب لنگرانداز ہو گا! اس کے انتظار میں تو ہماری آنکھیں پتھرا گئیں!