Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 13

  1. فِیْ صُحُفٍ مُّكَرَّمَةٍۙ﴿13﴾

    1. فِيْ صُحُفٍصحیفے (اوراق) میں
    2. مُّكَرَّمَةٍباعزت
Translation · Tadabbur-e-Quran
، لائق تعظیم، صحیفوں میں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
کلام کی عظمت کا بیان: اوپر کی آیات میں نبی ﷺ کو مستکبرین سے اعراض اور بے پروائی برتنے کی جو ہدایت فرمائی گئی ہے یہ اسی کی مزید وضاحت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح تمہارے شایان شان بات یہ نہیں ہے کہ ان مغروروں کے آگے تم اپنے آپ کو زیادہ جھکاؤ اسی طرح یہ کلام بھی، جو تم ان کو سنا رہے ہو، ایسی چیز نہیں ہے جو منت و سماجت کے ساتھ پیش کی جائے بلکہ یہ نہایت ہی اشرف، نہایت ہی بلند اور نہایت ہی پاکیزہ و برتر چیز ہے۔ یہ کوئی ناقص جنس نہیں ہے کہ تمہیں یہ فکر کرنی پڑے کہ کسی نہ کسی طرح یہ بک ہی جائے اگرچہ اس کی خاطر تمہیں خریداروں کی خوشامد ہی کرنی پڑے بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے خزانۂ محفوظ کے لعل و گہر ہیں جو تم مفت لٹا رہے ہو۔ اگر یہ لوگ اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں تو تمہارا کچھ نہیں بگاڑ رہے ہیں بلکہ اپنے ہی کو ابدی خسارے میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ’فِیْ صُحُفٍ مُّکَرَّمَۃٍ‘۔ یہ اس کلام کی عالی نسبی اور عالی مقامی کی تعریف ہے۔ ’فِیْ صُحُفٍ‘ دراصل ’ھُوَ فِیْ صُحُفٍ‘ ہے۔ یہاں مبتداء کو حذف کر دیا ہے۔ صفات مابعد کے بیان میں مبتدا کا حذف عربیت میں معروف ہے۔ ’صَحِیْفَۃٌ‘ لکھے ہوئے ورق کو کہتے ہیں۔ جمع کی صورت میں یہ بعض اوقات کتاب کے لیے بھی آتا ہے۔ یہاں اس سے اشارہ لوح محفوظ کی طرف ہے۔ ’مُّکَرَّمَۃٍ‘۔ یعنی وہ ایک عزیز، گراں مایہ اور قیمتی خزانہ ہے جس کی حفاظت اللہ کے فرشتے نہایت اہتمام سے کر رہے ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نہ اس تک ہر ایک کی رسائی ہے اور نہ ہر ایک اس کا اہل ہے کہ اس میں سے کچھ لے یا پا سکے بلکہ یہ اللہ ہی ہے کہ اس میں سے جس کو چاہتا ہے کچھ بخشتا ہے اور اسی نے تمہیں اس خزانے سے بخشا ہے تو اس نعمت سے انہی کو بہرہ مند کرو جو اس کے اہل ہیں۔ نااہلوں کے آگے ان موتیوں کو نہ ڈالو۔ یہ بات انجیل میں بھی نہایت مؤثر تمثیل کی صورت میں آئی ہے اور ہم کسی موزوں مقام میں اس کو نقل کر آئے ہیں۔