تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 16
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍؕ﴿16﴾
- كِرَامٍۢمعزر ہیں
- بَرَرَةٍجو نیک ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
، معزز باوفا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لفظ ’کِرَامٍ‘ میں ان کی عالی مقامی اور بلند کرداری کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ایسے بلند مرتبہ اور معزز ہیں کہ ان سے کسی خیانت کا کوئی اندیشہ نہیں ہے۔ نہ وہ اس میں خود کمی بیشی کر سکتے، نہ یہ امکان ہے کہ جنات و شیاطین کو اس تک رسائی کا کوئی موقع دیں۔
’بَرَرَۃٍ‘ جمع ہے ’بَارٌّ‘ کی۔ ’بَارٌّ‘ کہتے ہیں فرماں بردار، باوفا اور اپنی ذمہ داریوں کو ٹھیک ٹھیک ادا کرنے والے کو۔ یہ صفت ان کی امانت داری کے وصف کو مزید نمایاں کرنے کے لیے آئی ہے مثلاً فرمایا ہے:
’نَزَلَ بِہِ الرُّوْحُ الْاَمِیْنُ‘ (الشعراء ۲۶: ۱۹۳)
(یہ کلام جبریل امین کے ذریعہ سے نازل ہوا ہے)۔
دوسرے مقام میں اس کی وضاحت ہے:
’اِنَّہٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ ذِیْ قُوَّۃٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَکِیْنٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍ‘ (التکویر ۸۱: ۱۹-۲۱)
(یہ کلام ایک باعزت رسول کے واسطہ سے القاء ہوا ہے۔ وہ بڑی قوت والا اور عرش والے کے حضور میں نہایت مقرب ہے۔ اس کی بات مانی جاتی ہے۔ مزید برآں وہ نہایت معتمد ہے)۔
قرآن اور اس کے محافظین کی ان صفات کے ذکر سے مقصود، جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، آنحضرت ﷺ کو اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ قرآن ایسی چیز نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے منت و سماجت کے ساتھ پیش کی جائے بلکہ جس عظمت و شان کا وہ کلام ہے اسی وقار و خودداری کے ساتھ اس کی دعوت دی جائے اور جس طرح کے باوقار ملائکہ کو اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت اور اس کو نازل کرنے پر مامور فرمایا ہے چاہیے کہ اللہ کا رسول اور اس کے ساتھی بھی اس کی دعوت و تبلیغ میں اسی کردار کا مظاہرہ کریں۔
یہیں سے یہ حقیقت بھی واضح ہوئی کہ وحی الٰہی کے اخذ و تلقّی کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس ذات کا انتخاب فرمایا اور پھر جن لوگوں پر اس کی حفاظت و صیانت اور تحریر و کتابت کی ذمہ داری ڈالی وہ کس کردار اور کن صفات کے لوگ تھے اور انھوں نے کس دیانت و امانت کے ساتھ اپنے اس فرض کو انجام دیا۔ گویا جن صفات کے ملائکہ کو اس خدمت پر آسمانوں میں مامور فرمایا گیا انہی صفات کے انسانوں کو اس زمین پر اس کے حمل و نقل کے لیے منتخب فرمایا گیا۔