تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 17
قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗؕ﴿17﴾
- قُتِلَ الْاِنْسَانُمارا جائے انسان
- مَآ اَكْفَرَهٗکیا سخت منکر ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
برا ہوآدمی کا، یہ کتنا ناشکرا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انسان کی بددماغی پر اظہار افسوس:
اگرچہ لفظ ’اَلْإِنسَانُ‘ عام ہے لیکن کلام کا رخ انہی مستکبرین کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آ رہا ہے۔ ہم پیچھے مناسب مواقع پر زبان کے اس اسلوب کی طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ بعض مرتبہ کلام کا رخ ہوتا تو کسی خاص شخص یا کسی مخصوص گروہ ہی کی طرف ہے لیکن بات ان سے منہ پھیر کر عام صیغے سے کہہ دی جاتی ہے جس سے متکلم کی بے زاری کا اظہار ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہی صورت ہے۔ فرمایا کہ یہ انسان بھی عجیب مخلوق ہے! غارت ہو! کتنا ناشکرا بن کے رہ گیا ہے! اس کی بددماغی کا حال یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کو اللہ کا کلام اور پیغام بھی سنایا جائے تو اس کے آگے جھک کر اور نیاز مند بن کر سنایا جائے!
دراز دستئ ایں کو تہ آستیناں بین!
’مَا أَکْفَرَہٗ‘ کا اسلوب اظہار تعجب اور اظہار نفرت دونوں کا حامل ہے۔