تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 18
مِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗؕ﴿18﴾
- مِنْ اَيِّ شَيْءٍکس چیز سے
- خَلَقَهٗاس نے پیدا کیا اس کو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اسے کس چیز سے پیدا کیا ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ ان مغروروں کے کبر و غرور پر ضرب لگائی ہے لیکن مطالب کی ترتیب اس طرح ہے کہ چند چھوٹے چھوٹے جملوں میں انسان کی خِلقت، مادۂ خِلقت، مراحل خِلقت، وسائل معیشت غرض زندگی، موت، قبر سے لے کر حشر و نشر تک ساری باتوں کی طرف اشارہ کر دیا ہے تاکہ ان پر اپنے غرور کی بے ثباتی بھی واضح ہو جائے اور وہ خود اپنی زندگی کے آئینہ میں اس جزا و سزا کو بھی دیکھ لیں جس کی خبر قرآن ان کو دے رہا ہے۔
’مِنْ أَیِّ شَیْءٍ خَلَقَہٗ‘۔ یہ سوال تحقیر کے لیے بھی ہے اور زندگی بعد الموت کی طرف توجہ دلانے کے لیے بھی۔ ان متمردین کو زعم تھا کہ جس طرح اس دنیا میں وہ باعزت اور صاحب سیادت و قیادت ہیں اسی طرح آخرت ہوئی تو وہاں بھی ان کے لیے شایان شان مراتب ہوں گے۔ اس زعم کے سبب سے پیغمبر ﷺ کا یہ انداز ان کے دلوں پر بڑا شاق گزرتا تھا کہ یہ ہم کو تو جہنم میں جھونکے جانے کے ڈراوے سنا رہے ہیں اور ان فتو فقیروں کو جنت اور ابدی بادشاہی کی بشارت دے رہے ہیں جو ہمیشہ سے ہماری جوتیاں سیدھی کرتے آئے ہیں اور جن کو اپنے پہلو میں بٹھانا بھی ہم نے گوارا نہ کیا۔ ان کے اس زعم پر قرآن نے ان الفاظ میں ضرب لگائی ہے:
فَمَالِ الَّذِیْنَ کَفَرُوۡا قِبَلَکَ مُہْطِعِیْنَ ۵ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ ۵ أَیَطْمَعُ کُلُّ امْرِءٍ مِّنْہُمْ أَن یُدْخَلَ جَنَّۃَ نَعِیْمٍ ۵ کَلَّا إِنَّا خَلَقْنَاہُم مِّمَّا یَعْلَمُوۡنَ (المعارج ۷۰: ۳۶-۳۹)
’’پس ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ تمہارے اوپر پلے پڑ رہے ہیں، داہنے بائیں سے ٹولیاں بنا بنا کر! کیا ان میں سے ہر شخص یہ توقع لیے بیٹھا ہے کہ وہ نعمت کے باغ میں داخل کر دیا جائے گا؟ ہرگز نہیں، ہم نے ان کو پیدا کیا ہے اس چیز سے جس کو وہ جانتے ہیں!‘‘
ان آیات کا سیاق و سباق اور اس کی تفسیر تدبر قرآن کی روشنی میں سمجھ لیجیے۔ یعنی نجس پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوئی مخلوق کو اپنی برتری اور پاک دامنی کا یہ غرّہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنے آپ کو پیدائشی حق دار جنت سمجھ بیٹھے۔
اسی طرح قرآن نے جگہ جگہ انسان کی خِلقت اور اس کے مادۂ خِلقت سے قیامت پر اس پہلو سے استدلال کیا ہے کہ جو خدا پانی کی ایک حقیر بوند کو انسان بنا سکتا ہے اس کے لیے اس کو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے! یہ مضمون، مختلف اسلوبوں سے باربار بیان ہوا ہے، ہم صرف چند جامع آیات یہاں نقل کرتے ہیں:
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنۡسَانَ مِنۡ سُلَالَۃٍ مِّنۡ طِیْنٍ ۵ ثُمَّ جَعَلْنَاہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ ۵ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَۃَ عِظَامًا فَکَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْماً ثُمَّ أَنشَأْنَاہُ خَلْقاً آخَرَ فَتَبَارَکَ اللہُ أَحْسَنُ الْخَالِقِیْنَ ۵ ثُمَّ إِنَّکُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ لَمَیِّتُوْنَ ۵ ثُمَّ إِنَّکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ تُبْعَثُوْنَ (المومنون ۲۳: ۱۲-۱۶)
’’اور ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند کی شکل میں ایک محفوظ ٹھکانے میں رکھا۔ پھر ہم نے بوند کو ایک جنین کی شکل دی پھر اس جنین کو گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا اور اس لوتھڑے کے اندر ہڈیاں پیدا کیں اور ہڈیوں کو گوشت کا جامہ پہنایا پھر اس کو ایک بالکل ہی دوسری شکل دے دی۔ پس بڑا ہی بافیض و بابرکت ہے اللہ، بہترین خالق! پھر اس کے بعد لازماً تم مرنے والے ہو پھر تم قیامت کے دن اٹھائے بھی جاؤ گے۔‘‘