تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 19
مِنْ نُّطْفَةٍ١ؕ خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ﴿19﴾
- مِنْ نُّطْفَةٍ ۭایک نطفے سے
- خَلَقَهٗاس نے پیدا کیا اس کو
- فَقَدَّرَهٗپھر تقدیر مقرر کی اس کی
Translation · Tadabbur-e-Quran
پانی کی ایک بوند سے ! اس کو پیدا کیا، پھر اس کے لئے ایک اندازہ ٹھہرایا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’مِنْ نُّطْفَۃٍ خَلَقَہُ فَقَدَّرَہ‘۔ سوال کا جواب چونکہ بالکل واضح تھا جس سے کسی کے لیے بھی انکار کی گنجائش نہیں تھی اس وجہ سے جواب خود ہی دے دیا کہ پانی کی ایک بوند سے انسان کو پیدا کیا۔ اس پانی کی صفت قرآن کے دوسرے مقام میں ’مھین‘ آئی ہے جس کے معنی حقیر و ذلیل کے ہیں۔ یعنی نہ اپنی کمیت کے اعتبار سے کوئی بڑی چیز نہ قدر و قیمت کے اعتبار سے کوئی گوہر گراں مایہ! تو ایسے نجس قطرے سے وجود میں آنے والے انسان کو زیادہ اترانا کس طرح زیب دیتا ہے!
انسان کی خلقت میں تدبیر و حکمت کا پہلو: ’خَلَقَہُ فَقَدَّرَہٗ‘۔ تحقیر کے مضمون کے بعد کلام کا رخ اس تقدیر، تدبیر اور تیسیر کے بیان کی طرف مڑ گیا ہے جو انسان کی خلقت اور اس کی زندگی کے اطوار و مراحل میں نمایاں ہے اور جو اس بات کی ناقابل انکار شہادت ہے کہ قدرت جس قطرے کو گہر بنانے پر اپنے عجائب تصرف کی اتنی شانیں دکھاتی ہے وہ کوئی عبث اور بے مقصد چیز نہیں ہو سکتی بلکہ لازم ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں وہ اس کی قدر و قیمت کو پرکھے، اس کے خیر و شر کو تولے اور پھر جس کو اپنی میزان میں باوزن پائے اس کو چھانٹ لے اور جس کو ناکارہ اور بے قیمت پائے اس کو خس و خاشاک کی طرح تنور میں جھونک دے۔
’فَقَدَّرَہٗ‘ میں اشارہ ان منازل و مراحل کی طرف ہے جو انسان کی تدریجی تشکیل میں نمایاں ہیں۔ جس طرح چاند کے عروج و محاق کی منازل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ لفظ آیا ہے، مثلاً
’وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاہُ مَنَازِلَ‘ (یٰسٓ ۳۶: ۳۹)
(اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں ٹھہرا دی ہیں)
اسی طرح انسان کے تدریجی نشوونما اور اس کے بچپن، جوانی اور پھر زوال و فنا کی طرف توجہ دلانے کے لیے یہ لفظ یہاں استعمال ہوا ہے۔ اوپر سورۂ مومنون کی آیات کا حوالہ گزرا ہے اس میں بھی یہ مضمون ہے اور یہاں آگے کی آیات میں بھی اس کے بعض پہلو واضح فرمائے گئے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ تدریج و تقدیر خدا کی قدرت و حکمت اور اس اہتمام پر دلیل ہے جو انسان کی تخلیق میں نمایاں ہے اور یہ قدرت اور یہ اہتمام اس امر کی دلیل ہے کہ انسان کوئی عبث چیز نہیں ہے بلکہ اس کی خِلقت ایک عظیم غایت کے لیے ہے جس کا بدیہی تقاضا یہ ہے کہ وہ مرنے کے بعد اٹھایا جائے، اس کا حساب ہو، اس کو جزا یا سزا ملے۔ ساتھ ہی انسان کی تخلیق میں خدا کی جو قدرت نمایاں ہے وہ اس بات کی ناقابل تردید دلیل ہے کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ذرا بھی مستبعد نہیں ہے۔