Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 20

  1. ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ﴿20﴾

    1. ثُمَّ السَّبِيْلَپھر راستہ
    2. يَسَّرَهٗاس نے آسان کیا اس کا
Translation · Tadabbur-e-Quran
، پھر اس کے لئے راہ آسان کردی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تیسیر اپنے وسیع مفہوم میں: ’ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَہٗ‘۔ مفسرین نے عام طور پر اس تیسیر سے وہ تدبیر مراد لی ہے جو قدرت نے بچے کے بطن مادر سے برآمد ہونے کے لیے خود عورت اور بچہ کے نظام جسم میں ودیعت فرما دی ہے اور جو دونوں کی مدد کے لیے عین وقت پر نمودار ہوتی ہے۔ یہ بات غلط نہیں ہے۔ اس میں ذرا شبہ نہیں کہ یہ قدرتی انتظام نہ ہو تو کوئی دوسری تدبیر اس کا بدل نہیں ہے بلکہ زچہ و بچہ دونوں کے گھٹ کر مر جانے کا اندیشہ ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک تیسری کے مفہوم کو اس قدر محدود کر دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بچہ جس طرح بطن مادر کے اندر قدرت ہی کی تدبیر و تیسیر سے نشوونما پاتا ہے اسی طرح مہد سے لحد تک قدرت ہی کی تیسیر اور رہنمائی سے وہ زندگی کے تمام نشیب و فراز طے کرتا ہے۔ یہ خدا ہی کی تیسیر ہے کہ بچہ کے پیدا ہونے کے بعد اس کی ماں کی چھاتیوں میں اس کے تغذیہ کے لیے دودھ اترتا ہے اور اس کو قدرت کی طرف سے جبلی طور پر یہ رہنمائی ملتی ہے کہ ماں کی چھاتیوں کو چوسے۔ اسی طرح جوانی کے دور میں، وہ زندگی کے مختلف میدانوں میں جو سرگرمیاں دکھاتا اور جو فتوحات حاصل کرتا ہے ان میں بھی وہ خدا ہی کے بخشے ہوئے اعضاء و اسلحہ، خدا ہی کی عطا کردہ عقل اور خدا ہی کی بخشی ہوئی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ سورۂ اعلیٰ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی شان یہ بتائی ہے کہ ’الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰی ۵ وَالَّذِیْ قَدَّرَ فَہَدٰی‘ (الاعلیٰ ۸۷: ۲-۳) (جس نے خاکہ بنایا اور اس کے نوک پلک سنوارے اور جس نے صلاحیتیں ودیعت کیں اور پھر ان کے استعمال کی راہ دکھائی)۔ یہی حال انفسی اور اخلاقی عالم میں بھی ہے۔ سورۂ شمس میں فرمایا ہے: ’وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا ۵ فَأَلْہَمَہَا فُجُوۡرَہَا وَتَقْوَاہَا ۵ قَدْ أَفْلَحَ مَنۡ زَکَّاہَا ۵ وَقَدْ خَابَ مَنۡ دَسَّاہَا‘ (الشمس ۹۱: ۷-۱۰) (شاہد ہے نفس اور اس کی ترکیب، پس اس کو الہام کی اس کی بدی اور نیکی تو جس نے اس کو پاک رکھا اس نے فلاح پائی اور جس نے گندا کیا وہ نامراد ہوا)۔ غرض زندگی کے ہر شعبہ میں خواہ وہ روحانی ہو یا مادی اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کی راہ ہموار کی۔ اگر وہ اس راہ پر چلے تو وہ کبھی ٹھوکر نہ کھائے لیکن اپنے اختیار کے سوء استعمال سے وہ سیدھی راہ کے بجائے ٹیڑھی راہ اختیار کر لیتا ہے جو اس کو کسی ہلاکت کے کھڈ میں لے جا پھینکتی ہے۔