تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 80. Abasa · Ayah 31
وَّ فَاكِهَةً وَّ اَبًّاۙ﴿31﴾
- وَّفَاكِهَةًاور پھل
- وَّاَبًّااور چارہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
میوے اور سبزہ ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’وَفَاکِہَۃً وَاَبًّا‘۔ یہ اس عام کو عام تر کر دیا تا کہ قدرت کے اس خوان کرم کا دائرہ انسانوں کے ساتھ ان حیوانات تک وسیع ہو جائے جو بلاواسطہ یا بالواسطہ اس کے کام آتے ہیں۔
اوپر میووں میں سے صرف خاص خاص کا ذکر نام کی تصریح کے ساتھ ہوا تھا، یہاں لفظ ’فَاکِہَۃٌ‘ استعمال کر کے تمام میووں کی طرف اشارہ فرما دیا، خواہ عرب میں پیدا ہوتے ہوں یا عجم میں، خواہ وہ اعلیٰ درجے کے ہوں یا ادنیٰ درجے کے اور خواہ وہ پرندوں ہی کے لیے مخصوص ہوں یا انسان بھی ان سے فائدہ اٹھاتے ہوں۔
علاوہ ازیں اوپر صرف انہی نعمتوں کا ذکر ہے جو انسانوں کو حاصل ہیں، درآنحالیکہ انسانوں کے ساتھ ان کی خدمت کرنے والے چوپائے بھی ہیں جن کا انسان محتاج بھی ہے اور جو اسی طرح پرورش کے حاجت مند ہیں جس طرح انسان ہے، لیکن خاص ان کے لیے کسی چیز کا ذکر نہیں ہوا تھا۔ وہ کمی یہاں لفظ ’اَبٌّ‘ کا اضافہ کر کے پوری کر دی۔
’اَبٌّ‘ کے معنی نباتات اور شاداب گھاس کے ہیں۔ چوپایوں کے کام آنے والی چیز تو وہ بھُس بھی ہے جو غلہ سے الگ کیا جاتا ہے لیکن وہ عام اور معمولی چیز ہے جب کہ یہاں موقع کسی ایسی چیز کے ذکر کا تھا جو ان کے لیے وہی درجہ رکھتی ہو جو درجہ انسانوں کے لیے ’فواکہ‘ کا ہے۔ تازہ اور شاداب گھاس ان کے لیے عام بھی ہے اور ساتھ ہی ان کے وہ تمام میووں، سبزیوں اور ترکاریوں کا بہترین بدل بھی ہے جو انسان کو حاصل ہیں۔
لفظ ’اَبٌّ‘ پر استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیر سورۂ عبس میں مفصل بحث کر کے ثابت کیا ہے کہ یہ لفظ عربی کے معروف الفاظ میں سے ہے اس وجہ سے بعض روایات میں یہ بات جو نقل ہوئی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر کو اس کے معنی کا علم نہیں تھا، کسی طرح صحیح نہیں ہے۔ میرے نزدیک استاذ امام رحمۃ اللہ علیہ کی تحقیق نہایت تشفی بخش ہے۔ اگر کسی کو اس کے بارے میں کوئی خلش ہو تو وہ مولانا کی تفسیر سورۂ عبس کی مراجعت کرے۔