تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 14
عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ﴿14﴾
- عَلِمَتْجان لے گا
- نَفْسٌہر شخص
- مَّآجو کچھ
- اَحْضَرَتْوہ لایا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ وہ کیا لے کر آئی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تمام شرطوں کا جواب:
اوپر جتنے ’اِذَا‘ گزرے ہیں یہ ان سب کا اکٹھے جواب ہے۔ یعنی جب یہ یہ احوال پیش آئیں گے تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ وہ اپنے رب کے آگے پیش کرنے کے لیے کیا لے کر آئی ہے۔ اس جاننے سے مقصود ظاہر ہے کہ اس کے انجام کو جاننا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آج کے حالات میں اس کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ مذاق اڑا لیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ دن آنے والا ہے اور ایک عظیم ہلچل کے ساتھ آنے والا ہے اور اس دن ہر ایک دیکھ لے گا کہ اس کے لیے اس نے کیا تیاری کی اور کیا چیز نظر انداز کی درآنحالیکہ وہ کرنے کی تھی۔ آگے والی سورہ میں، جو اس کی توام سورہ ہے، یہی مضمون زیادہ وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ فرمایا ہے:
’عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۵)
(تب ہر ایک جان لے گا اس نے کیا کیا اور کیا چھوڑا)۔