تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 15
فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ﴿15﴾
- فَلَآ اُقْسِمُسو میں قسم کھاتاہوں
- بِالْخُنَّسِپیچھے ہٹ جانیوالے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قرآن کی تکذیب کے لیے ایک اشغلہ:
یہ انذار کا مذاق اڑانے والوں کے اس وہم کی تردید ہے جو انھوں نے اللہ کے رسول اور اس کی کتاب سے متعلق ایجاد کیا اور جس کو دلیل بنا کر انھوں نے اپنے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی کہ وہ قرآن کو کوئی خدائی وحی سمجھ کر اس سے مرعوب یا متاثر نہ ہوں۔ انھوں نے جب دیکھا کہ لوگ آنحضرت ﷺ کی دعوت سے متاثر ہو رہے ہیں اور عذاب و قیامت کا ڈراوا ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکل سکتا ہے کہ وہ اس دعوت کے حامی بن جائیں تو انھوں نے ان کو اس سے بدگمان کرنے کے لیے یہ اُشغلہ ایجاد کیا کہ نہ یہ قرآن خدائی وحی ہے اور نہ اس کے پیش کرنے والے اللہ کے رسول ہیں بلکہ یہ ہمارے کاہنوں کی طرح کے ایک کاہن ہیں جس طرح کاہنوں کا تعلق جنات سے ہوتا ہے جو ان پر غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں اسی طرح ان کا رابطہ بھی (العیاذ باللہ) کسی شیطان سے ہے جو ان پر اپنی باتیں القاء کرتا ہے اور وہ اس کو خدائی وحی کے نام سے پیش کرتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں جن کو اس نے ہمارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ ہم ان کی اطاعت کریں اور اگر ہم نے ان کی بات نہ مانی تو اس دنیا میں بھی ہم پر عذاب آ جائے گا اور اس کے بعد آخرت میں بھی ہمارے لیے جہنم تیار ہے۔
قرآن نے ان کے اس پراپیگنڈے کی جگہ جگہ تردید کی ہے۔ خاص طور پر سورۂ شعراء اور سورۂ نجم میں اس کی تردید پوری وضاحت سے ہوئی ہے اور ہم نے بھی اس کے تمام پہلوؤں پر بحث کی ہے۔ یہاں بھی ان کے اسی پراپیگنڈے کی تردید ایک نئے پہلو سے ہے جس کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے لیے عربوں میں مروّج کہانت کی اصل و بنیاد کو جان لینا ضروری ہے۔
کہانت کی بنیاد دو چیزوں پر تھی: اس کہانت کی بنیاد دو چیزوں پر تھی:
ایک تو ان کے مزعومہ علم نجوم پر۔ وہ ستاروں کے مصرف بالذات ہونے کے معتقد اور ان میں سے بعض کے سعد اور بعض کے نحس ہونے کے مدعی تھے۔ اسی طرح ان کے طلوع و غروب، ان کے گرنے اور چڑھنے اور ان کے چلنے اور چھپنے کے متعلق مختلف قسم کے اوہام انھوں نے ایجاد کر رکھے تھے جن کی بنیاد پر وہ اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے مختلف قسم کی مبارک یا منحوس پیشین گوئیاں کرتے اور اپنی غیب دانی کی دھونس جماتے۔ مثلاً بسا اوقات یہ افواہ پھیلا دیتے کہ فلاں ستارے کی الٹی گردش سے ایک بڑا خطرہ ظہور میں آنے والا ہے اس سے بچنے کی تدابیر معلوم کرنے کے لیے لوگ ان سے رجوع کریں۔ پھر جو بدقسمت ان کے دام میں آ جاتے ان کو وہ اچھی طرح بے وقوف بناتے۔
دوسری یہ کہ وہ جنات سے رابطہ رکھنے اور ان کے ذریعہ سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کے مدعی تھے۔ سورۂ شعراء کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے کہ جب کوئی شخص ان سے کسی معاملے میں غیبی رہنمائی کا طالب ہوتا تو وہ اس مقصد کے لیے مراقبہ کی نمائش کرتے اور پھر ایک مقفّٰی اور مسجّع کلام کی صورت میں جو اکثر بے معنی یا ذومعانی ہوتا، اپنی مزعومہ وحی پیش کر کے اس کے کچھ الٹے سیدھے معنی بیان کرتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ وحی ان پر عالم غیب کے اسرار سے واقف ایک جن نے کی ہے۔
کہانت کے ستونوں پر قرآن کی ضرب: قرآن نے جگہ جگہ کہانت کے ان دونوں ہی ستونوں پر ضرب لگائی ہے۔ شمس و قمر اور ستاروں کے طلوع و غروب کو اس نے اس طرح پیش کیا ہے جس سے یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے کہ ان میں سے نہ کوئی مصرف بالذات ہے اور نہ کوئی سعد یا نحس بلکہ ان کا طلوع و غروب خالق کائنات کے اختیار میں ہے۔ وہی جب چاہتا ہے ان کو مطلع پر نمودار کرتا ہے اور جب چاہتا ہے ان کو نگاہوں سے اوجھل کر دیتا ہے۔ وہ خود اپنے وجود سے شہادت دیتے ہیں کہ وہ آسمان و زمین کے رب کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ اسی کے حکم سے آتے اور اسی کے حکم سے جاتے ہیں۔ع
لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے
سورۂ انعام آیات ۷۵-۸۴ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا جو تدریجی ارتقاء نمایاں فرمایا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہ اس باب میں قرآن کے طریق استدلال اور اس کے منطقی نتیجہ کو واضح کر دینے کے لیے کافی ہے۔
اسی طرح کہانت کے دوسرے ستون پر ضرب لگانے کے لیے قرآن نے شہاب ثاقب کا حوالہ دیا اور واضح فرمایا ہے کہ کسی جن کے لیے ملاء اعلیٰ تک رسائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے وہ ٹوہ لگاتے ہیں تو ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ستاروں کے اندر یہ انتظام کر رکھا ہے کہ ان کی برجیوں سے ان کے اوپر شہاب ثاقب کے راکٹ پھینکے جاتے ہیں۔ یہ مضمون یوں تو جگہ جگہ بیان ہوا ہے لیکن زیربحث قسموں کو سمجھنے کے لیے سورۂ نجم اور سورۂ جن کی متعلق آیات پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہو گا۔
اس تمہید کی روشنی میں اب آیت کے الفاظ اور ان کے معانی پر غور کیجیے۔
آیات قسم کے الفاظ کی تحقیق: ’فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ‘۔ یہ بحث اس کتاب میں جگہ جگہ گزر چکی ہے کہ قرآن مجید میں اس طرح کی قسمیں جو آئی ہیں وہ کسی دعوے پر شہادت کے مقصد سے آئی ہیں اور یہ بات بھی واضح کی جا چکی ہے کہ قسم سے پہلے اگر اس طرح ’لَا‘ آیا ہے جس طرح یہاں ہے تو وہ قَسم کی نفی کے لیے نہیں بلکہ مخاطب کے اس زعم کی نفی کے لیے آیا ہے جس کی تردید اس قسم سے مقصود ہے۔
’خُنَّسٌ‘ جمع ہے ’خَانِسٌ‘ کی۔ اس کے معنی آگے بڑھ کر پیچھے پلٹ جانے والے، ظاہر ہو کر غائب ہو جانے والے اور نمایاں ہو کر روپوش ہو جانے والے کے ہیں۔ یہ لفظ ستاروں کی صفت کے طور پر آتا ہے اور ان کے لیے اس قدر معروف ہے کہ بسا اوقات موصوف کے ذکر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مجرد صفت ہی موصوف کو ظاہر کر دینے کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔ بعض اہل لغت نے اس کو بعض خاص ستاروں کے ساتھ مخصوص کیا ہے لیکن یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ یہاں ستاروں کی جو صفات مذکور ہوئی ہیں وہ تمام ستاروں پر یکساں منطبق ہوتی ہیں خواہ وہ ثوابت ہوں یا سیارے، زحل ہو یا عطارد اور ان کے قبیل کے دوسرے ستارے۔