Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 16

  1. الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ﴿16﴾

    1. الْجَوَارِسیدھے چلنے والے
    2. الْكُنَّسِچھپ جانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
چلنے والے اور چھپ جانے والے ستاروں کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’اَلْجَوَارِ الْکُنَّسِ‘۔ یہ انہی ستاروں کی مزید صفات کا بیان ہے اور ان کا بغیر حرف عطف کے آنا عربیت کے اس معروف قاعدے سے، جس کی وضاحت اس کے محل میں گزر چکی ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے موصوف الگ الگ نہیں ہیں۔ ’جَوَارِیْ‘ کے معنی چلنے والے کے ہیں اور ’کُنَّسٌ‘ جمع ہے ’کَانِسٌ‘ کی۔ ’کنس الظبی‘ کے معنی ہوں گے ہرن اپنے مامن میں چھپ گیا۔ ’کنست النجوم‘ کے معنی ہوں گے کہ ستارے اپنے مدار میں چلے اور چل کر اپنے ٹھکانوں میں روپوش ہو گئے۔ صاحب اقرب الموارد نے وضاحت کی ہے کہ یہ صفت تمام ستاروں کی مشترک صفت ہے۔ ستاروں کی قسم کہانت کے ابطال کے پہلو سے: ستاروں کی یہ قسم یہاں کہانت کے ابطال کے لیے کھائی گئی ہے۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ کاہنوں کے مزعومہ علم غیب کی بنیاد دو چیزوں پر تھی۔ ایک ان ستاروں کے مؤثر بالذات ہونے کے تصور پر، دوسرے اس وہم باطل پر کہ آسمانوں کے اندر ایسے ٹھکانے (مقاعد للسمع) ہیں جن میں بیٹھ کر جنات غیب کی باتیں سنتے اور پھر ان کو پہنچاتے ہیں۔ ستاروں کی مذکورہ صفات کا حوالہ دے کر قرآن نے ان کے ان دونوں باطل تصورات کی نفی کر دی۔ طلوع کے بعد ان کے غروب اور آنے کے بعد ان کے جانے اور اس طلوع و غروب اور ایاب و ذہاب میں اوقات کی ایسی پابندی کہ منٹ اور سیکنڈ کا بھی فرق نہ پیدا ہونے پائے اس امر کی نہایت واضح شہادت ہے کہ وہ اس کائنات کے نظام میں مؤثر بالذات عناصر کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ایک بالاتر حکیم و قدیر کے ہاتھوں میں مسخر ہیں۔ اس وجہ سے اصل مولیٰ و مرجع اور نافع و ضار وہ ہے نہ کہ یہ محکوم و مقہور کواکب و نجوم۔ دوسرے وہم کے ابطال کے لیے قرآن نے اس کائنات کے ایک راز کو آشکارا فرمایا ہے کہ ان ستاروں کے اندر شیاطین کے استراق سمع اور تجسس غیب کے لیے ٹھکانے نہیں بنے ہوئے ہیں، جیسا کہ نادانوں نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ اس کے برعکس ان کے اندر ایسی برجیاں اور دیدبان بنے ہوئے ہیں جہاں سے ان شیاطین پر مار پڑتی ہے جو ملاء اعلیٰ کی باتوں کی ٹوہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ستاروں کی یہ صفتیں یہاں قسم کے اسلوب میں بیان ہوئی ہیں اس وجہ سے بتقاضائے بلاغت ان میں غایت درجہ ایجاز ہے۔ تاہم الفاظ کے اندر ایسے اشارے یہاں بھی موجود ہیں جو غور کرنے والوں کی رہنمائی کے لیے کافی ہیں، مثلاً ’خُنَّس‘ کی صفت واضح طور پر ان کے افول و غروب کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اس صفت کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ نادانوں نے صرف ان کے طلوع کو اہمیت دی اور ان کو معبود بنا بیٹھے حالانکہ ان کی پسپائی اور ان کے ڈوبنے کو بھی دیکھنا تھا جو ان کے محکوم و مسخر ہونے کی نہایت واضح دلیل ہے۔ اسی طرح ’اَلْجَوَارِ الْکُنَّسِ‘۔ کے اندر ایک ہلکا سا اشارہ اس نقل و حرکت کی طرف بھی ہے جو یہ ستارے شیاطین کے تعاقب میں کرتے ہیں۔ جب وہ استراق سمع کی کوشش کرنے نکلتے ہیں تو اس وقت ستاروں کا منظر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ ایک برق خاطف تیر کی طرح نکلی اور اپنے ہدف پر پہنچ کر دفعۃً پھر اپنے ترکش میں چھپ گئی۔