Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 19

  1. اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ﴿19﴾

    1. اِنَّهٗ لَقَوْلُبیشک یہ کلام
    2. رَسُوْلٍقاصد
    3. كَرِيْمٍعزت والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصل دعویٰ: یہ مذکورہ بالا دونوں قسموں کا مقسم علیہ یا بالفاظ دیگر وہ اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ فرمایا کہ بے شک یہ قرآن ایک معزز و مکرم فرستادۂ الٰہی کا لایا ہوا کلام ہے۔ ’رسول‘ سے یہاں مراد حضرت جبریل ہیں۔ آگے جو صفات بیان ہوئی ہیں اور جن کی وضاحت آ رہی ہے ان سے معین ہو جائے گا کہ ان صفات کے موصوف حضرت جبریل علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں۔ یہی بات آگے آیت ۲۵ میں منفی پہلو سے بھی فرما دی گئی ہے جس سے لفظ ’کریم‘ کا اصل موقع و محل واضح ہوتا ہے۔ فرمایا ہے: ’وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَیْْطَانٍ رَجِیْمٍ‘ (اور یہ کسی راندۂ درگاہ شیطان کی القاء کی ہوئی بات نہیں ہے)۔ مطلب یہ ہے کہ محروم القسمت ہیں وہ لوگ جو اس قرآن کو کاہنوں کی بکواس کی قسم کی کوئی چیز قرار دیتے اور اللہ کے رسول کو کاہن کہتے ہیں۔ کاہن جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ شیطانی القاء ہوتا ہے جس میں صداقت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ وہ غیب دانی کے مدعی ہوتے ہیں لیکن ان کے شیاطین کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہونا تو درکنار وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسے مردود و مبغوض ہیں کہ وہ آسمانوں میں گھات لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر شہابوں کے ذریعہ سے سنگ باری ہوتی ہے۔ اس کے برعکس یہ کلام جو ان کو سنایا جا رہا ہے یہ اللہ کے ایک ایسے فرستادہ کا لایا ہوا کلام ہے جو خدا کی بارگاہ میں عزت پائے ہوئے اور نہایت مقرب و مکرم ہے۔