تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 20
ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ﴿20﴾
- ذِيْ قُوَّةٍقوت والا
- عِنْدَنزدیک
- ذِي الْعَرْشِعرش کے مالک
- مَكِيْنٍبلند مرتبہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بڑی ہی قوت والا اور عرش والے کے نزدیک بڑا ہی بارسوخ ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت جبریل کی مزید صفات:
یہ حضرت جبریل امین کی مزید صفات بیان فرمائی گئی ہیں تاکہ اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن کس محفوظ و مامون اور پاکیزہ ذریعہ سے اترا ہوا کلام ہے اور کاہن جس ذریعہ سے اپنا مزعومہ علم حاصل کرتے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ باعزت رسول نہایت زور و قوت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسی اعلیٰ اور محکم صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ دوسری شیطانی طاقتیں اس کو مرعوب یا مغلوب یا متاثر نہیں کر سکتیں کہ اس کے فرائض مفوضہ میں وہ مزاحم ہو سکیں یا اس سے کوئی چیز اچک سکیں یا اس کو دھوکہ دے سکیں۔ وہ صاحب عرش کے احکام پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ نافذ کرتا ہے اس لیے کہ وہ اس کی بارگاہ میں نہایت تقرب اور رسوخ رکھنے والا ہے۔ اس کو صاحب عرش تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔ کوئی دوسرا اس کے اور صاحب عرش کے درمیان حائل نہیں ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام کی یہی صفت سورۂ نجم کی آیات ۵-۶ میں ’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘ اور ’ذُوْ مِرَّۃٍ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے جس کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔