Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 21

  1. مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ﴿21﴾

    1. مُّطَاعٍسب کا مانا ہوا
    2. ثَمَّ اَمِيْنٍوہاں کا امانتدار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس کی بات مانی جاتی اور وہ نہایت امین بھی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’مُطَاعٍ‘ یعنی جو ارواح و ملائک اس کی ماتحتی میں ہیں وہ سب بے چون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں، مجال نہیں ہے کہ سرمو اس کے احکام سے انحراف کر سکیں یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکیں یا اس کے دیے ہوئے احکام میں کوئی تحریف یا ترمیم یا شیاطین کے ساتھ کوئی ساز باز کر سکیں۔ ’ثَمَّ‘ کی تحقیق: ’ثَمَّ أَمِیْنٍ‘ کلام عرب کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ثَمَّ‘ اور ’ثُمَّ‘ کے مواقع استعمال میں بڑا فرق ہے۔ ’ثَمَّ‘ کسی جگہ کی طرف خاص طور پر اشارہ کے لیے بھی آتا ہے اور کسی صفت سے پہلے اس پر خاص اہتمام سے زور دینے کے لیے بھی۔ مثلاً سورۂ شعراء میں فرمایا ہے: ’وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ‘ (۶۴) اس کا ترجمہ اگر ’ثَمَّ‘ کے صحیح مفہوم کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیجیے تو یہ ہو گا کہ ’وہیں ہم لائے دوسروں کو بھی‘۔ یعنی جس راہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو نجات دی وہیں ہم فرعونیوں کو بھی لائے تاکہ ان کو غرق کر دیں۔ اسی طرح سورۂ دہر کی آیت ’وَإِذَا رَأَیْْتَ ثَمَّ رَأَیْْتَ نَعِیْمًا وَمُلْکًا کَبِیْرًا‘ (۲۰) میں بھی یہ لفظ آیا ہے۔ اس کا ٹھیک ٹھیک ترجمہ ہمارے نزدیک یہ ہو گا کہ ’جہاں دیکھو گے وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے‘۔ ع زفرق تابقدم ہر کجا کہ می نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جا است اسی طرح صفت سے پہلے جب یہ آتا ہے تو اس کی عظمت و اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہاں یہ صفت ’امین‘ سے پہلے آیا ہے تو اس سے مقصود حضرت جبریل علیہ السلام کی اس صفت کی طرف خاص طور پر توجہ دلانا ہے۔ یعنی مذکورہ صفات کے ساتھ ان کی خاص اہمیت رکھنے والی یا خاص طور پر ذکر کے لائق صفت یہ بھی ہے کہ وہ نہایت امانت دار ہیں۔ اس صفت کے خاص اہتمام کے ساتھ ذکر کی وجہ یہ ہے کہ ان کی یہی صفت اس امر کی ضمانت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے پاس جو کچھ لاتے ہیں اس میں نہ کسی ملاوٹ کا کوئی شائبہ ہوتا نہ کسی کمی بیشی کا کوئی اندیشہ۔ اس کے برعکس کاہنوں کے علم کا حال یہ ہے کہ وہ جن شیاطین سے علم حاصل کرتے ہیں وہ اُچکے اور چور ہوتے ہیں۔ اول تو ملاء اعلیٰ تک وہ پہنچ نہیں پاتے اور اگر کوئی بات اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ یکسر جھوٹ ہوتی ہے جس میں مزید جھوٹ ملا کر وہ اپنے کاہنوں پر القاء کرتے ہیں اور یہ کاہن ان سے بھی بڑھ کر جھوٹے ہوتے ہیں جو اپنی دکان داری کو فروغ دینے کی خاطر رائی کو پربت بناتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس ناپاک جوہڑ کو اس چشمۂ صافی سے کیا نسبت جس سے اللہ کا رسول فیض یاب ہوتا ہے!