Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 22

  1. وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ﴿22﴾

    1. وَمَااور نہیں
    2. صَاحِبُكُمْتمہارا رفیق
    3. بِمَجْنُوْنٍدیوانہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور تمہارا یہ ساتھی کوئی خبطی نہیں ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قریش کو تنبیہ: رسول کے ذریعۂ علم کی عظمت و طہارت واضح کرنے کے بعد یہ قریش کے لیڈروں کو مخاطب کر کے تنبیہ فرمائی کہ تمہارے یہ ساتھی (محمد ﷺ) اگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے تمہیں انذار کرنے پر مامور فرمایا ہے اور جو کچھ وہ تمہیں سنا رہے ہیں وہ اس کا کلام ہے جو اس نے اپنے سب سے زیادہ مقرب فرشتے کے ذریعہ سے ان پر نازل فرمایا ہے تو ان کی ان باتوں کو خبط و جنون پر محمول نہ کرو بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ یہاں لفظ ’صَاحِبُکُمْ‘ کے استعمال میں بڑی بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تمہارے لیے کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں۔ تمہارے ہی اندر یہ پیدا ہوئے، تمہارے ہی ساتھ یہ رہے سہے اور تمہارے ہی اندر ان کی اب تک کی زندگی کا ہر دور گزرا اور تم میں سے ہر شخص ان کی شرافت، رزانت، متانت، عفت، صداقت اور امانت کا گواہ رہا ہے۔ اب اگر ان کی موعظت تمہیں گراں گزر رہی ہے تو ان کے اب تک کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور کرو نہ کہ ان کو خبطی، دیوانہ، مجنون اور کاہن و منجم بنا ڈالو۔