Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 23

  1. وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ﴿23﴾

    1. وَلَقَدْ رَاٰهُاور اس نے اس کو دیکھا ہے
    2. بِالْاُفُقِکنارہ پر
    3. الْمُبِيْنِکھلا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس نے اس کو کھلے افق میں دیکھا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی اگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے اس فرشتہ کو دیکھا ہے جو ان پر وحی لے کر آتا ہے تو یہ بھی کوئی جھوٹ یا فریب نفس نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت ہے۔ انھوں نے فی الواقع اس فرشتے کو بالکل کھلے ہوئے اور صاف افق میں دیکھا ہے۔ ’افق مبین‘ سے مراد فضائے آسمانی کا وہ حصہ ہے جو نظر کے سامنے ہے۔ جس کا مشاہدہ بغیر کسی شائبہ اشتباہ کے ہوتا ہے۔ سورۂ نجم میں اسی کو ’افق اعلیٰ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے: عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوٰی ۵ ذُوْ مِرَّۃٍ فَاسْتَوٰی ۵ وَہُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلٰی ۵ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَٰی ۵ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنٰی ۵ فَأَوْحٰی إِلٰی عَبْدِہٖ مَا أَوْحٰی ۵ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ۵ أَفَتُمٰرُوْنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی (النجم ۵۳: ۵-۱۲) ’’اس کو ایک بڑی مضبوط قوتوں والے، طاقت ور نے تعلیم دی ہے۔ وہ سیدھا ہوا درآنحالیکہ وہ افق اعلیٰ میں تھا۔ پھر وہ قریب ہوا اور جھک پڑا۔ پس دو کمانوں یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا پس اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔ یہ مشاہدہ جو اس نے کیا وہ کوئی فریب نفس نہیں ہے۔ تو کیا تم لوگ اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جس کا اس کو مشاہدہ ہوتا ہے۔‘‘ ان آیات کی تفسیر تدبر قرآن میں پڑھ لیجیے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے ان مشاہدات کی طرف اشارہ ہے جو آپ کو آغاز وحی میں ہوئے۔ جب آپ نے ان کا ذکر اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے کیا تو وہ آپ کے سر ہو گئے اور اس کی تردید میں طرح طرح کی باتیں انھوں نے بنائیں۔ کسی نے اس کو شیطانی القاء قرار دیا اور کسی نے محض واہمہ کی خلاقی۔ انہی جھٹلانے والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ نہ یہ کوئی فریب نفس ہے اور نہ فریب نظر بلکہ یہ کھلے ہوئے افق کا ایک ایسا مشاہدہ ہے جس میں کسی شبہے کی گنجائش نہیں ہے۔