Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 81. At-Takwir · Ayah 24

  1. وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ﴿24﴾

    1. وَمَااور نہیں
    2. هُوَوہ
    3. عَلَي الْغَيْبِغیب پر
    4. بِضَنِيْنٍبخل کرنے والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور یہ غیب کی باتوں کا کوئی حریص نہیں ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ کا رسول غیب کا حریص نہیں ہے: یعنی ہمارا رسول تمہارے کاہنوں کی طرح غیب کا حریص نہیں ہے کہ جو واہمہ دل میں گزر جائے اس کو حقیقت سمجھ کر غیب دانی کا مدعی بن بیٹھے اور اپنی دکان سجا لے بلکہ اس کو جو مشاہدہ ہوتا ہے یا جو وحی اس پر آتی ہے وہ اضطراری طور پر آتی ہے جس کو وہ تمہارے سامنے پیش کرتا ہے۔ تمہارے کاہن غیب جاننے کے لیے نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں اور اسی پر ان کی دکان داری کا انحصار ہوتا ہے اس وجہ سے کوئی سچی چیز ہاتھ نہیں آتی تو جھوٹ ہی سے اپنی دکان چمکاتے ہیں لیکن اپنے اس ساتھی کے متعلق تمہیں اچھی طرح علم ہے کہ وہ ان چیزوں کے پیچھے کبھی نہیں پڑے۔ یہ جو کچھ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں یہ غیب دانی کی نمائش یا جلب زر کا کوئی بہانہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کا اظہار ہے جس کے اظہار پر وہ مضطر ہیں۔ ’ضَنِیْنٌ‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے ’بخیل‘ کیا ہے لیکن میں نے حریص کیا ہے۔ بخل و حرص دونوں لازم و ملزوم ہیں اس وجہ سے ان میں فرق محض ظاہری ہے لیکن میں نے حرص کے معنی کو اس وجہ سے ترجیح دی ہے کہ لفظ ’ضَنٌّ‘ بخل کے معنی میں جب آتا ہے تو اس کا صلہ ’ب‘ آتا ہے اور یہاں ’عَلٰی‘ آیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ ’حرص‘ کے معنی پر متضمن ہے۔