Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 82. Al-Infitaar · Ayah 5

  1. عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ﴿5﴾

    1. عَلِمَتْ نَفْسٌجان لے ہر شخص
    2. مَّا قَدَّمَتْکیا اس نے آگے بھیجا
    3. وَاَخَّرَتْاور پیچھے چھوڑا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ اس کے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ وہ اصل بات بیان ہوئی ہے جو اس دن سب کے سامنے آئے گی۔ یعنی جب اس کائنات میں یہ عظیم ہلچل برپا ہو گی جس کے بعض آثار مذکور ہوئے تب ہر شخص کو پتہ چلے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ مطلب یہ ہے کہ آج جو لوگ پیغمبر کے انذار کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ اس گھمنڈ میں نہ رہیں کہ یہی دن ہمیشہ رہیں گے بلکہ اس دن کی عظیم ہلچل کو سامنے رکھ کر اپنے انجام پر غور کریں جس سے سابقہ پیش آنے والا ہے اور جس سے کسی کو بھی پناہ نہیں ملنی ہے، نہ کسی چھوٹے کو نہ کسی بڑے کو۔ ’قدّم‘ اور ’اخَّر‘ کی تاویل: ’مَا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ‘ کی تاویل اگر ان مستکبرین کو سامنے رکھ کر کی جائے جو سورہ کے اول مخاطب ہیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جو ناکردنی کام اللہ و رسول کے خلاف انھوں نے کیے ان کا انجام بھی وہ دیکھیں گے اور جو کرنے کے کام انھوں نے نظرانداز کیے ان کی حسرت بھی چکھیں گے۔ سورۂ جمعہ میں یہود کے متعلق فرمایا ہے کہ ’وَلَا یَتَمَنَّوْنَہٗ أَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَیْْدِیْہِمْ‘ (۷) (اور وہ ہرگز موت کی تمنا کرنے والے نہیں ہیں بوجہ اپنی کرتوتوں کے جو وہ کر گزرے ہیں)۔ یعنی جو زاد راہ آخرت کے لیے انھوں نے بھیجا ہے وہ اس سے اچھی طرح واقف ہیں اس وجہ سے یہ خدا کو منہ دکھانے کا حوصلہ نہیں کر سکتے۔ اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ یہ بات بھی بیان ہوئی ہے کہ کفار قیامت کے دن نہایت حسرت کے ساتھ کہیں گے کہ کاش، آخرت کی زندگی کے لیے انھوں نے کچھ کر لیا ہوتا۔ سورۂ فجر میں ان کا قول نقل ہوا ہے: ’یَقُوْلُ یٰلَیْْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْ‘ (۲۴) (وہ کہے گا، اے کاش! میں نے اپنی اُخروی زندگی کے لیے دنیا کی زندگی میں کچھ کر لیا ہوتا) اسی طرح سورۂ مومنون میں ہے: ’حَتّٰی إِذَا جَآءَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ ۵ لَعَلِّیْ أَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَکْتُ‘ (۹۹-۱۰۰) (یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آ دھمکے گی وہ کہے گا اے رب، مجھے پھر واپس بھیج کہ جو مال و متاع میں دنیا میں چھوڑ کر آیا ہوں اس میں کچھ نیکی کی کمائی کر لوں)۔ اگرچہ ان حوالوں کی روشنی میں ’قَدَّم‘ اور ’اَخَّر‘ دونوں کا صحیح محل متعین ہو جاتا ہے لیکن بعض لوگوں نے اس کا یہ مفہوم بھی لیا ہے کہ ’ما قدم من الخیر والشر وما لم یقدمہ‘ (یعنی جو نیکی اور بدی اس نے کی اور جو چھوڑی)۔ اسی طرح بعض دوسروں نے یہ مطلب لیا کہ ’ما قدم من ما لھا وَمَا اخّر للوارثین‘ (جو اس نے اپنے مال میں سے اپنی اخروی زندگی کے لیے بھیجا اور جو وارثوں کے لیے چھوڑا)۔ اگرچہ آیت کے عموم میں یہ باتیں بھی داخل ہیں لیکن اس کے موقع و محل کے پہلو سے اس تاویل کو ہمارے نزدیک ترجیح حاصل ہے جو ہم نے اوپر بیان کی۔