Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 82. Al-Infitaar · Ayah 6

  1. یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ﴿6﴾

    1. يٰٓاَيُّهَا الْاِنْسَانُاے انسان
    2. مَا غَرَّكَکس چیز نے تجھے دھوکہ دیا
    3. بِرَبِّكَ الْكَرِيْمِاپنے رب کریم کے بارے میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے انسان ! تجھے تیرے رب کریم کے باب میں کس چیز نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
خدا کی کریمی سے مہلک مغالطہ: ’انسان‘ اگرچہ عام ہے لیکن یہاں روئے سخن انہی مکذبین قیامت کی طرف ہے جن کو اس سورہ میں انذار کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ آگے والی آیت میں ان کو براہ راست مخاطب کر کے فرمایا ہے: ’کَلَّا بَلْ تُکَذِّبُوۡنَ بِالدِّیْنِ‘ (ہرگز نہیں، بلکہ تم لوگ جزا و سزا کو جھٹلا رہے ہو)۔ خاص مخاطب کو عام لفظ سے خطاب کرنے میں جو بلاغت ہے اس کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہم کرتے آ رہے ہیں۔ ’مَا غَرَّکَ بِرَبِّکَ الْکَرِیْمِ‘ میں استفہامیہ اسلوب اظہار تعجب کے لیے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہارے رب کی اس کریمی نے تم کو جزاو سزا سے نچنت کیا کہ وہ تمہاری سرکشیوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا اور برابر ڈھیل پر ڈھیل دیے جا رہا ہے تو تم نے اس کریمی سے بہت سخت دھوکا کھایا۔ ہونا تو یہ تھا کہ تم اس کے لطف و کرم کی قدر کرتے، اس کے شکرگزار بندے بنتے اور اپنے آپ کو اس کی مزید عنایات کا حق دار بناتے لیکن ہوا یہ کہ تم اس کے آگے بالکل ڈھیٹ بن گئے۔ اس کے انذار کا مذاق اڑانے لگے، اور یہ سمجھ بیٹھے کہ جو رفاہیت تمہیں حاصل ہے یہ تمہارا پیدائشی حق ہے اور رسول جس قیامت سے آگاہ کر رہا ہے یہ محض ایک ہوّا ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں۔