تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 82. Al-Infitaar · Ayah 7
الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ﴿7﴾
- الَّذِيْجس نے
- خَلَقَكَتجھے پیدا کیا
- فَسَوّٰىكَپھر تجھے ٹھیک کیا
- فَعَدَلَكَپھر برابر کیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس نے تیرا خاکہ بنایا، پھر تیرے نوک پلک سنوارے اور تجھے بالکل موزوں کیا !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا حوالہ جو جزا پر دلیل ہیں:
یہ رب کریم نے اپنی بعض ان صفات کا حوالہ دیا ہے جو خود انسان کی خِلقت کے اندر ظاہر ہیں اور جو دلیل ہیں کہ جس رب نے انسان کے پیدا کرنے میں اپنی کاریگری، حکمت، قدرت اور اہتمام خاص کی شانیں دکھائی ہیں اس نے اس کو عبث نہیں پیدا کیا ہے کہ وہ شتر بے مہار کی طرح چھوٹا پھرے۔ بلکہ ایک دن وہ لازماً اس کو اپنے حضور میں بلائے گا، اس کا محاسبہ فرمائے گا، پھر جن کو وہ اپنا فرماں بردار پائے ان کو ابدی رحمتوں سے نوازے گا اور جو اس کے باغی ہوں گے ان کو جہنم میں جھونک دے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ سارا اہتمام بالکل بے معنی و بے مقصد ہو جاتا ہے جو انسان کے پیدا کرنے پر اس نے کیا اور اس کی اس قدرت و حکمت کی بھی نفی ہو جاتی ہے جو اس کے ہر فعل میں نمایاں ہے۔
’الَّذِیْ خَلَقَکَ فَسَوَّاکَ‘۔ ’خلق‘ کے معنی ہیں کسی چیز کا خاکہ بنانا اور اس کو پیدا کرنا اور ’تَسویۃ‘ کے معنی اس کی نوک پلک سنوارنے کے ہیں۔ گویا یہاں انسان کی پیدائش کے ابتدائی اور انتہائی دونوں مرحلوں کی طرف اشارہ فرما دیا کہ اسی رب کریم نے تمہارا خاکہ بنایا اور اسی نے تمہارے نوک پلک سنوارے۔ ’فَعَدَلَکَ‘ اور اس طرح اس نے تمہیں ایک متوازن مخلوق بنایا۔
انسان کی خلقت میں حکمت کا پایا جانا دلیل ہے کہ وہ کھلونا نہیں ہے: مقصود اس بیان سے، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا، اس اہتمام و عنایت کی طرف توجہ دلانا ہے جو انسان کی تخلیق میں نمایاں ہے۔ یہ اہتمام و عنایت اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کوئی کھلونا نہیں ہے جس کو قدرت نے اپنا جی بہلانے کے لیے وقتی طور پر بنا لیا ہو اور پھر جب چاہے اس کو توڑ پھوڑ کر رکھ دے۔ جس چیز پر جتنا ہی اہتمام صرف ہوتا ہے اس کے اندر اتنی ہی مقصدیت ہوتی ہے اور اسی اعتبار سے اس کو قدرت کے نظام میں اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ انسان برسات میں پیدا ہونے والے پتنگوں کی مانند نہیں ہے کہ پیدا ہو اور فنا ہو جائے بلکہ وہ قدرت کی بہترین صناعی کا مظہر ہے اس وجہ سے ضروری ہے کہ وہ امتحانوں سے گزرتا ہوا اس مقام تک پہنچے جو اس کے لیے مقدر ہے اور اگر وہ اس کا حوصلہ نہ کرے تو یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی پست حوصلگی کی سزا بھگتے۔
’فَعَدَلَکَ‘ میں اس اعتدال و توازن کی طرف اشارہ ہے جو ’لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنۡسَانَ فِیْ أَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ‘ (التین ۹۵: ۴) والی آیت میں بیان ہوا ہے۔ انسان اپنی ظاہری شکل و صورت اور اپنی روحانی و معنوی صلاحیتوں کے اعتبار سے عالم کی تمام مخلوقات میں بالکل نقطۂ وسط پر ہے اس وجہ سے وہ اس بات کا اہل ہوا کہ اللہ تعالیٰ اس کو زمین میں اپنا خلیفہ بنائے، اس کو امت وسط کے منصب پر سرفراز فرمائے اور اگر وہ زمین میں خدا کی خلافت کا حق ادا کرے تو آسمان کی ابدی بادشاہی کا بھی حق دار ٹھہرائے۔