Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 82. Al-Infitaar · Ayah 9

  1. كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ﴿9﴾

    1. كَلَّاہرگز نہیں
    2. بَلْبلکہ
    3. تُكَذِّبُوْنَتم جھٹلاتے ہو
    4. بِالدِّيْنِجزا وسزا کا دن
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہرگز نہیں، بلکہ تم جزا کو جھٹلاتے ہو۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مکذبین قیامت کو زجر: ’کَلَّا‘ یہاں مکذبین کے ان شبہات و اعتراضات کی نفی کے لیے ہے جو وہ قیامت کے خلاف پیش کرتے تھے اور جن کی تردید اوپر کی آیات میں اللہ تعالیٰ کی ان صفات سے فرمائی گئی ہے جو خود انسان کی خِلقت کے اندر موجود ہیں۔ ان کو پیش کرنے کے بعد ان دلیل بازوں کو زجر فرمایا ہے کہ ’کَلَّا‘ یعنی تمہارے ان تمام شبہات و اعتراضات کی ہرگز کوئی بنیاد نہیں ہے، یہ ساری باتیں بناوٹی ہیں۔ اصل یہ ہے کہ تم جزا و سزا کو ماننا نہیں چاہتے اس وجہ سے لا یعنی شبہات پیش کر رہے ہو کہ بھلا مر کھپ جانے کے بعد وہ لوگ دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے؟ حالانکہ اگر جزا و سزا عقل، عدل، فطرت اور اللہ تعالیٰ کی رحمت و حکمت کی رو سے واجب ہے تو اس کے لیے انسانوں کو قبروں سے اٹھا کھڑا کرنا کیا مشکل ہے! یہاں یہ بات یاد رکھیے کہ بعض اوقات انسان جھٹلانا تو کسی چیز کو چاہتا ہے لیکن اس کے خلاف کچھ کہنے کی گنجائش نہیں پاتا اس وجہ سے بعض غیر متعلق سوالات چھیڑتا ہے تاکہ اس کے باب میں کچھ شبہات پیدا کرنے کی راہ کھولے۔ قریش کے منکرین اسی طرح کی الجھن میں گرفتار تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جزا و سزا کو جھٹلانا ایک امر بدیہی کو جھٹلانا ہے لیکن اس کو ماننے کے لیے بھی تیار نہیں تھے اس وجہ سے بعض بناوٹی شبہات کی آڑ لے کر یہ نمائش کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ گویا ان کے پاس کچھ دلائل ہیں جن کی بنا پر وہ قرآن کے انذار کو نہیں مان رہے ہیں۔