Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 12

  1. وَ مَا یُكَذِّبُ بِهٖۤ اِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍۙ﴿12﴾

    1. وَمَا يُكَذِّبُاور نہیں جھٹلاتے
    2. بِهٖٓاس کو
    3. اِلَّامگر
    4. كُلُّہر
    5. مُعْتَدٍحد سے بڑھ جانیوالا
    6. اَثِيْمٍگنہگار
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس کو تو وہی جھٹلاتے ہیں جو تعدی اور حق تلفی کرنے والے ہوتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ان لوگوں کی نشان دہی جو تکذیب جزا میں پیش پیش ہیں: اب یہ ان لوگوں کا سراغ دے دیا جو جزا و سزا کے دن کو جھٹلانے میں پیش پیش ہیں۔ فرمایا کہ اس کی تکذیب وہی لوگ کر رہے ہیں جو حدود سے تجاوز کرنے اور حق تلفی کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس کی تکذیب کرنے کی جرأت کوئی ایسا شخص نہیں کر سکتا جس کے اندر عدل اور رحم کی ادنیٰ رمق بھی ہو۔ اس کی شہادت ہر انسان کی فطرت کے اندر موجود ہے اس وجہ سے کسی خارجی دلیل کی اس کے لیے کوئی حاجت نہیں۔ ہر شخص اس کو اپنے دل کے آئینہ میں دیکھ سکتا ہے۔ البتہ ان لوگوں کو یہ چیز نظر نہیں آتی جن کے دلوں پر تعدی اور حق تلفی کا رنگ چڑھ چکا ہو۔ ’عدوان‘ اور ’اثم‘ کی حقیقت پر ہم اس کے محل میں گفتگو کر چکے ہیں۔ ’عدوان‘ اور ’اعتداء‘ یہ ہے کہ کوئی دوسروں کے حقوق پر دست درازی کرے اور ’اثم‘ یہ ہے کہ دوسروں کے جو حقوق اس پر عائد ہوتے ہیں ان کو دبا بیٹھے۔ دوسروں کے حقوق غصب کرنے یا دبا بیٹھنے کی جن کو چاٹ لگ جاتی ہے وہ جزا و سزا سے فرار کے لیے کوئی نہ کوئی راہ نکالنے کی ضرور کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کا ضمیر ان کی تعدیوں اور حق تلفیوں سے کوئی خلش نہ محسوس کرے۔ ہم اوپر اشارہ کر چکے ہیں کہ کسی حقیقت سے فرار انسان محض اس وجہ سے نہیں اختیار کرتا کہ اس کے حق میں اس کو کوئی دلیل نہیں ملی بلکہ اس کی بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کو تسلیم کرنے سے اس کی خواہشوں اور عادتوں پر زد پڑتی ہے۔ جب ایک بات وہ ماننا نہیں چاہتا تو اپنے لیے کچھ عذرات تراشنے کی کوشش کرتا ہے اگرچہ وہ کتنے ہی لنگ ہوں۔ سورۂ قیامہ میں اسی حقیقت کی طرف یوں اشارہ فرمایا ہے: بَلِ الْإِنسَانُ عَلَی نَفْسِہِ بَصِیْرَۃٌ (14) وَلَوْ أَلْقَی مَعَاذِیْرَہُ (القیامہ ۷۵: ۱۴-۱۵) ’’بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے اگرچہ وہ کتنے ہی عذرات تراشے۔‘‘