تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 13
اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَؕ﴿13﴾
- اِذَا تُتْلٰىجب پڑھی جائیں
- عَلَيْهِ اٰيٰتُنَااس پر ہماری آیتیں
- قَالَکہے
- اَسَاطِيْرُکہانیاں
- الْاَوَّلِيْنَپہلے
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یہ اس طرح کے مکذبین کے طریقۂ تکذیب کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ لوگ ایک واضح حقیقت کی تکذیب اپنے ضمیر کے بالکل خلاف کرتے ہیں۔ ان کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اس وجہ سے دلیل کا جواب دلیل سے دینے کی جگہ محض اپنی ہٹ دھرمی اور مکابرت کا اظہار کرتے ہیں۔ فرمایا کہ جب ان کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں: چلو ہٹو، سن لیا، اس میں ہے کیا، یہ تو محض اگلوں کے فسانے ہیں!
’اٰیٰتٌ‘ سے مراد وہ دلیلیں اور حجتیں ہیں جو قیامت اور جزا و سزا کے حق میں ان کو قرآن کے ذریعہ سے سنائی گئیں۔ ان دلیلوں کا بیان پچھلی سورتوں میں بھی ہوا ہے اور آگے کی سورتوں میں بھی آ رہا ہے۔ ساتھ ہی ان میں ان قوموں کی تاریخ کا بھی حوالہ ہے جو انذار قیامت کی تکذیب کے نتیجہ میں تباہ ہوئیں۔ ان چیزوں کو سن کر وہ بس ایک ہی فقرے میں ان کی تکذیب کر دیتے کہ یہ سب اگلوں کے فسانے اور پچھلوں کے قصے ہیں۔ مطلب یہ کہ ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو لائق اعتناء ہو۔