تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 14
كَلَّا بَلْ١ٚ رَانَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ﴿14﴾
- كَلَّاہرگز نہیں
- بَلْ ۫بلکہ
- رَانَزنگ پکڑ گیا ہے
- عَلٰي قُلُوْبِهِمْان کے دلوں پر
- مَّاجو
- كَانُوْا يَكْسِبُوْنَوہ کماتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تکذیب کی اصل علت:
یہ قرآن نے اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے کہ ان بددماغوں کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ یہ اگلوں کے فسانے ہیں۔ یہ ہیں تو حقائق جن کے حق میں آفاق و انفس اور عقل و فطرت کے ناقابل انکار دلائل موجود ہیں لیکن ان کے اعمال کا زنگ اس طرح ان کے دلوں پر چڑھ گیا ہے کہ اب حق کی کوئی کرن ان کے اندر نفوذ ہی نہیں کرتی۔
’مَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘ سے ان کے اسی طرح کے اعمال کی طرف اشارہ ہے جن کا ذکر اوپر عدوان اور اثم کے تحت ہم کر چکے ہیں اور جن کے متعلق قرآن کی شہادت یہ ہے کہ جو ان کے مرتکب ہوتے ہیں وہ جزا و سزا کی تکذیب کا کوئی بہانہ ضرور ڈھونڈھتے ہیں۔
’بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمْ‘ میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کرتے آ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فطرت کے اندر جو دلائل ودیعت فرمائے ہیں اور عقل و دل کے اندر سوچنے سمجھنے کی جو صلاحیت بخشی ہے یہ چیزیں کام اسی صورت میں آتی ہیں جب انسان ان کی قدر کرے اور ان سے فائدہ اٹھائے۔ اگر ان سے فائدہ نہ اٹھائے بلکہ ان کے مقابل میں نفس کی خواہشوں ہی کو اپنا رہنما بنا لے اور ان اعلیٰ صلاحیتوں کو ٹھکرا دے تو آہستہ آہستہ آدمی کی بدعملیوں کا زنگ ان پر چڑھنا شروع ہوتا ہے اور بالتدریج اس طرح ان کا احاطہ کر لیتا ہے کہ ان کے اندر کسی صحیح چیز کے داخل ہونے کی کوئی گنجائش سرے سے باقی ہی نہیں رہ جاتی۔