Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 83. Al-Mutaffifin · Ayah 31

  1. وَ اِذَا انْقَلَبُوْۤا اِلٰۤى اَهْلِهِمُ انْقَلَبُوْا فَكِهِیْنَ٘ۖ﴿31﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. انْقَلَبُوْٓاوہ لوٹتے
    3. اِلٰٓى اَهْلِهِمُاپنے گھر والے
    4. انْقَلَبُوْالوٹتے
    5. فَكِهِيْنَہنستے (باتیں بناتے)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اپنے لوگوں میں لوٹتے تو مگن ہو کر لوٹتے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
یعنی اہل ایمان کے ساتھ یہ بدتمیزیاں کر کے جب اپنے گھر والوں میں لوٹتے تو بہت مگن لوٹتے گویا کوئی بڑا میدان جیت کر لوٹے ہیں۔ یہ اشارہ ان کے سفلہ پن کی طرف ہے کہ بجائے اس کے کہ ان کو اپنی ان حرکتوں پر کچھ ندامت ہو وہ ان کا ذکر بڑے فخر سے اپنے گھر والوں میں کرتے کہ انھوں نے فلاں کے اس طرح لتے لیے اور فلاں کو یوں لتاڑا۔ سورۂ قیامہ میں یہی بات یوں بیان ہوئی ہے: ’وَلٰکِنۡ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی ۵ ثُمَّ ذَہَبَ إِلٰی أَہْلِہٖ یَتَمَطّٰی‘ (القیامہ ۷۵: ۳۲-۳۳) یہاں وہ بات یاد رکھیے جو قرآن میں اہل ایمان کے کردار سے متعلق مذکور ہوئی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اہل اور متعلقین کے اندر ایک محتاط آدمی کی طرح زندگی گزارتے ہیں کہ ان کے کسی رویہ سے ان کو کوئی غلط سبق نہ ملے جو قیامت کے دن اُن کے لیے تباہی اور اِن کے لیے رسوائی کا باعث ہو۔ اس کے برعکس ان اشرار کا یہ کردار بیان ہوا ہے کہ یہ باہر اہل ایمان کے ساتھ جو گنڈہ گردی کر کے لوٹتے ہیں اس کی داستان فخر کے ساتھ گھر والوں کو بھی سناتے ہیں تاکہ ان کی پوری نسل گنڈوں کی نسل بن جائے۔