Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 16

  1. فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالشَّفَقِۙ﴿16﴾

    1. فَلَآ اُقْسِمُسو میں قسم کھاتا ہوں
    2. بِالشَّفَقِشام کی سرخی
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اوپر کے دعوے پر بطریق قسم شہادت: اب آخر میں تین چیزوں کو بصورت قسم شہادت میں پیش کر کے اسی دعوے کو ثابت کیا ہے جو اوپر آیت ۶ میں گزر چکا ہے کہ ’اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب ہی کی طرف جا رہا ہے اور تجھے اس کے آگے پیش ہونا ہے‘۔ ان قسموں کا مقسم علیہ ’لَتَرْکَبُنَّ طَبَقًا عَنۡ طَبَقٍ‘ ہے، جس سے یہ بات نکلی کہ تیرا خدا کے آگے پیش ہونا ہے تو ایک امر شدنی لیکن یہ کام ایک ترتیب و تدریج کے ساتھ ہو گا اس لیے کہ کائنات میں اللہ تعالیٰ کی یہی سنت جاری ہے کہ ہر چیز اپنی غایت و نہایت کو ایک تدریج کے ساتھ پہنچتی ہے۔ اس خلاصۂ بحث کو سامنے رکھ کر اب اجزائے کلام پر غور کیجیے۔ ’فَلَا أُقْسِمُ بِالشَّفَقِ ۵ وَاللَّیْْلِ وَمَا وَسَقَ‘۔ قسم سے پہلے یہاں ’لَا‘ اسی طرح آیا ہے جس طرح ’لَا أُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ‘ اور متعدد دوسری قسموں سے پہلے آیا ہے۔ ہم اس کی وضاحت بار بار کر چکے ہیں کہ نہ یہ زائد ہوتا ہے اور نہ قسم کی نفی کے لیے بلکہ یہ قسم سے پہلے مخاطب کے اس زعم باطل کی پیشگی نفی کے لیے آتا ہے جس کی تردید قسم سے مقصود ہوتی ہے۔ اس اسلوب میں یہ بلاغت ہے کہ متکلم مخاطب کے زعم باطل کی تردید میں اتنا توقف بھی گوارا کرنے پر تیار نہیں ہے کہ دلیل بیان کرنے کے بعد اس کی تردید کرے بلکہ کلام کا آغاز ہی اس کی تردید سے کرتا ہے۔ یہ اسلوب ایک فطری اسلوب ہے اور ہر قابل ذکر زبان میں موجود ہے۔ رات اور اس کے تضمنات کی قسم: یہاں پہلے ’شَفَق‘ کی قسم کھائی ہے، پھر رات اور اس کے تضمنات کی۔ ’شَفَق‘ اس سرخی کو کہتے ہیں جو غروب آفتاب کے معاً بعد افق پر نمودار ہوتی ہے۔ یہی سرخی رات کی تمہید ہوتی ہے۔ جب تک یہ باقی رہتی ہے اس وقت تک سرشام ہے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ غائب ہوتی اور رات دنیا پر اپنا قبضہ جما لیتی ہے۔ ’وَمَا وَسَقَ‘۔ رات کے بعد یہ ان چیزوں کی قسم کھائی ہے جن کو رات اپنے اندر سمیٹ لیتی ہے۔ اس کی تشریح اہل لغت نے ’مَا جَمَعَ وَضَمَّ اِلَیْہِ‘ سے کی ہے، یعنی وہ چیزیں جن کو رات اپنے اندر جمع کر لیتی ہے۔ ہمارے مفسرین نے اس سے عام طور پر حیوانات وغیرہ کو مراد لیا ہے اس لیے کہ رات میں وہ آرام کے لیے اس کے دامن میں پناہ گیر ہو جاتے ہیں۔ بعض نے اس سے دریاؤں، پہاڑوں اور درختوں وغیرہ کو مراد لیا ہے کہ رات ان سب پر اپنی چادر اڑھا دیتی ہے۔ لیکن ان چیزوں کا تعلق اس مقسم علیہ سے سمجھ میں نہیں آتا جو اوپر مذکور ہوا درآنحالیکہ قسم کھائی جاتی ہی ہے مقسم علیہ کو ثابت کرنے کے لیے۔ اس وجہ سے ہمارے نزدیک اس سے وہ کواکب و نجوم مراد ہیں جو رات میں نمودار ہوتے اور جن سے اس کی بزم آراستہ ہوتی ہے۔ یہ چیزیں اول تو رات ہی کے مخصوصات میں سے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے ’وَمَا وَسَقَ‘ کی تعبیر نہایت موزوں ہے۔ دوسرے قرآن نے جگہ جگہ ان کے طلوع و غروب، ان کے عروج و محاق اور ان کے سجود و رکوع کو اس حقیقت کی شہادت میں پیش کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں مسخر ہیں، اسی کے حکم سے طلوع ہوتی ہیں، پھر ایک معین راستہ پر ایک خاص تدریج کے ساتھ ان کا ارتقاء ہوتا ہے، پھر بالتدریج ان کا زوال شروع ہوتا ہے یہاں تک کہ بالآخر وہ اپنے اسی خالق کی طرف لوٹ جاتی ہیں جس کے حکم سے وہ نمودار ہوتی ہیں۔ گویا ان کے اندر اس قانون الٰہی کی بے پناہ گرفت کی نہایت واضح شہادت موجود ہے جس سے انسان کو ’اِنَّکَ کَادِحٌ إِلٰی رَبِّکَ کَدْحًا‘ کے الفاظ سے آگاہ فرمایا گیا ہے۔