Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 84. Al-Inshiqaaq · Ayah 21

  1. وَ اِذَا قُرِئَ عَلَیْهِمُ الْقُرْاٰنُ لَا یَسْجُدُوْنَؕ۩۩﴿21﴾

    1. وَاِذَا قُرِئَاور جب پڑھاجاتا ہے
    2. عَلَيْهِمُان پر
    3. الْقُرْاٰنُقرآن
    4. لَا يَسْجُدُوْنَوہ سجدہ نہیں کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب انہیں قرآن سنایا جاتا ہے تو سجدے میں نہیں گر پڑتے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انسان کی ناسپاسی پر اظہار تعجب: یعنی حق تو یہ تھا کہ جب قرآن ان کو ایسی عظیم حقیقت سے آگاہ کر رہا ہے تو جب وہ ان کو سنایا جاتا تو وہ اس کی عظمت کے اعتراف اور اس کی بیان کردہ حقیقت کی تصدیق کے لیے بطور شکر اپنے رب کے آگے سجدہ میں گر پڑتے، لیکن ان کا رویہ اس کے بالکل برعکس یہ ہے کہ اکڑتے اور اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ یہاں عرب اور اہل مصر کی یہ روایت پیش نظر رہے کہ جب وہ کسی کی بات کی عظمت اور صداقت کا سچے جوش و جذبہ کے ساتھ اعتراف کرنا چاہتے تو اس کو دیکھتے یا سنتے ہی بے تحاشا سجدے میں گر پڑتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لیے فرعون نے جن ساحروں کو اکٹھا کیا تھا انھوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی صداقت اور ان کے معجزات کی عظمت کا اعتراف اسی طرح کیا۔ مشہور شاعر لبید کے قصیدے کے ایک شعر پر بھی وقت کے مشہور شعرائے عرب نے سجدہ کیا جس کی بنا پر ان کا قصیدہ خانہ کعبہ میں آویزاں کیا گیا اور وہ وقت کے ملک الشعراء قرار پائے۔ ظاہر ہے کہ قرآن اپنی بلاغت و صداقت میں ان چیزوں سے بدرجہا بلند ہے لیکن جو لوگ اس کی قدر و قیمت سے ناآشنا تھے وہ سجدہ کرنے کے بجائے اکڑتے اور اس کا مذاق اڑاتے تھے۔