تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 85. Al-Burooj · Ayah 10
اِنَّ الَّذِیْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ یَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَ لَهُمْ عَذَابُ الْحَرِیْقِؕ﴿10﴾
- اِنَّ الَّذِيْنَبیشک وہ جو
- فَتَنُواتکلیفیں دیں
- الْمُؤْمِنِيْنَمومن (جمع) مرد
- وَالْمُؤْمِنٰتِمومن عورتیں
- ثُمَّپھر
- لَمْ يَتُوْبُوْاانہوں نے توبہ نہ کی
- فَلَهُمْتو ان کے لئے
- عَذَابُعذاب
- جَهَنَّمَجہنم
- وَلَهُمْاور ان کے لئے
- عَذَابُعذاب
- الْحَرِيْقِجلنا
Translation · Tadabbur-e-Quran
جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو ستایا، پھر توبہ نہ کی، ان کے لئے لازماً جہنم کی سزا اور جلنے کا عذاب ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
مسلمانوں کو ستانے والوں کو واضح الفاظ میں وعید:
اوپر جو وعید اشارات کے پردے میں سنائی گئی ہے اس آیت میں وہ بالکل بے نقاب کر دی گئی ہے۔ فرمایا کہ جو لوگ ایمان لانے والے مردوں اور ایمان لانے والی عورتوں کو دین سے پھیرنے کے لیے نشانۂ ستم بنائیں گے اور پھر توبہ نہیں کریں گے وہ یاد رکھیں کہ ان کے لیے جہنم کا عذاب، خاص کر آگ کا عذاب ہے۔
لفظ فتنہ یہاں خاص کر اس ظلم و ستم کے لیے آیا ہے جو کسی پر اس کے دین سے اس کو پھیرنے کے لیے کیا جائے۔ اس معنی میں یہ لفظ قرآن میں بار بار آیا ہے جس کی وضاحت ہو چکی ہے۔
’مُؤْمِنِیْنَ‘ کے پہلو بہ پہلو ’مُؤْمِنٰتٌ‘ کا ذکر یہاں خاص اہتمام سے اس لیے ہوا ہے کہ جس دور ابتلاء سے یہ آیات متعلق ہیں اس میں سب سے زیادہ ظلم کمزور عنصر ہونے کے سبب سے عورتوں، بالخصوص لونڈیوں پر ڈھائے گئے۔ ان ظلم ڈھانے والوں کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ سلامتی مطلوب ہے تو جلد سے جلد توبہ اور اصلاح کر لیں ورنہ یاد رکھیں کہ اسی حال میں اگر ان کا خاتمہ ہوا تو سیدھے جہنم میں اتریں گے۔
’عَذَابُ جَہَنَّمَ‘ کے ذکر کے بعد بظاہر ’عَذَابُ الْحَرِیْقِ‘ کے ذکر کی ضرورت نہیں تھی لیکن یہ عام کے بعد خاص کا ذکر ہے۔ ’جَہَنَّمَ‘ عذاب کی جملہ اقسام و انواع کا مرکز ہے جس میں سب سے بڑا عذاب جلنے کا عذاب ہے۔ گویا ان لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ جہنم کے دوسرے عذابوں کے ساتھ ساتھ ان کو جلنے کے عذاب کا بھی مزا چکھنا پڑے گا۔ اس انجام کو اچھی طرح سوچ رکھیں۔