Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 85. Al-Burooj · Ayah 11

  1. اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۣؕ۬ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْكَبِیْرُؕ﴿11﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. الَّذِيْنَ اٰمَنُوْاجو لوگ ایمان لائے
    3. وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کئے
    4. الصّٰلِحٰتِاچھے
    5. لَهُمْان کے لئے
    6. جَنّٰتٌباغات
    7. تَجْرِيْجاری ہیں
    8. مِنْ تَحْتِهَاان کے نیچے سے
    9. الْاَنْهٰرُ ۀنہریں
    10. ذٰلِكَ الْفَوْزُیہ کامیابی
    11. الْكَبِيْرُبڑی
Translation · Tadabbur-e-Quran
البتہ جو پختہ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کے لئے باغ ہوں گے جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ بڑی کامیابی دراصل یہ ہے !۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ثابت قدم رہنے والوں کو بشارت: یہ ان اہل ایمان کی حوصلہ افزائی ہے جو ان پُر محن حالات کے باوجود اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔ فعل ’اٰمَنُوْا‘ قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اپنے حقیقی اور کامل معنی میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ان مظالم کے علی الرغم جو اہل ایمان اپنے ایمان پر جمے اور عمل صالح کی روش پر قائم و دائم رہیں گے ان کے لیے بے شک ایسے باغ ہوں گے جن میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ ’ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْکَبِیْرُ‘۔ یعنی کوئی اس کامیابی کو معمولی کامیابی نہ سمجھے۔ یہ دائمی اور ابدی کامیابی ہے، جس کو حاصل ہو گی وہی جانے گا کہ اس نے چند دنوں کی آزمائشوں کے صلے میں کیسی عظیم بادشاہی حاصل کی۔