Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 87. Al-A'laa · Ayah 1

  1. سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَىۙ﴿1﴾

    1. سَبِّحِپاکیزگی بیان کر
    2. اسْمَ رَبِّكَاپنے رب کا نام
    3. الْاَعْلَىسب سے بلند
Translation · Tadabbur-e-Quran
اپنے خداوند برتر کے نام کی تسبیح کر
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ کی یاد کی اہمیت: ہم جگہ جگہ واضح کر چکے ہیں کہ لفظ ’تَسْبِیْحٌ‘ میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کو ان تمام باتوں سے پاک اور برتر قرار دینا جو اس کی اعلیٰ شان کے منافی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا صحیح تصور ہی تمام علم و معرفت اور تمام قوت و اعتماد کا سرچشمہ ہے۔ اگر اس میں کوئی خلل پیدا ہو جائے تو انسان صحیح معرفت کی شاہراہ سے ہٹ جاتا اور شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکلتا ہے کہ اس کا دل ایمان و توکل کی نعمت، طمانیت و شرح صدر کے نور اور عزیمت و استقامت کی قوت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صحیح معرفت اور اس کی یاد ہی ہے جو دل کو پابرجا اور مستقیم و مطمئن رکھتی ہے۔ ’اَلاَ بِذِکْرِ اللّہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوۡبُ‘ (الرعد ۱۳: ۲۸) ’تسبیح‘ کی سب سے اعلیٰ اور معیاری شکل تو، جیسا کہ ہم جگہ جگہ بیان کرچکے ہیں، نماز، بالخصوص شب کی نماز ہے لیکن جس طرح سانس انسان کی مادی زندگی کے لیے ہر وقت ضروری ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی یاد اس کی روحانی زندگی کے لیے ہر وقت ضروری ہے۔ اس وجہ سے صرف نمازوں کے اوقات ہی میں نہیں بلکہ زندگی کی دوسری سرگرمیوں کے اندر بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے دل کو آباد رکھنا چاہیے تاکہ شیطان کو اس پر غلبہ پانے کا موقع نہ ملے۔ سورۂ مزمل کی آیت ۷ ’إِنَّ لَکَ فِی اَلنَّہَارِ سَبْحًا طَوِیْلاً‘ کے تحت اس حقیقت کی ہم وضاحت کر چکے ہیں۔ یہاں نبی ﷺ کو یہ ہدایت صبر و استقامت کے حصول کے لیے فرمائی گئی ہے اس وجہ سے یہ اپنے جامع مفہوم ہی میں ہے۔