تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 87. Al-A'laa · Ayah 2
الَّذِیْ خَلَقَ فَسَوّٰى۪ۙ﴿2﴾
- الَّذِيْجس نے
- خَلَقَپیدا کیا
- فَسَوّٰىپھر ٹھیک کیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
جس نے خاکہ بنایا پھر نوک پلک سنوارے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں ایک تدریج ہوتی ہے جو اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے:
اب اس آیت اور آگے کی چند آیات میں خدائے برتر کی چند صفات کی طرف توجہ دلائی جا رہی ہے جن سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس کے ہر کام میں ایک ترتیب و تدریج ہوتی ہے جو یکسر اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے اس وجہ سے بندے کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے رب کے احکام کی تعمیل میں صبر و استقامت کے ساتھ لگا رہے اور یہ امید رکھے کہ جس راہ پر چلنے کا اس نے حکم دیا ہے اس کی آخری منزل، اپنی تمام برکتوں کے ساتھ، بالآخر آ کے رہے گی۔ اس میں جو دیر ہو گی وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت پر مبنی ہو گی اور جو مشکلیں پیش آئیں گی ان کے اندر بھی دنیا اور آخرت دونوں کی مصلحتیں مضمر ہوں گی۔
خلق: ’خَلَقَ‘ کے معروف معنی تو پیدا کرنے کے ہیں لیکن کسی چیز کا خاکہ یا پتلا بنانے کے معنی میں بھی یہ آیا ہے، مثلاً
’أَنِّیْ أَخْلُقُ لَکُمۡ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْئَۃِ الطَّیْْرِ فَأَنفُخُ فِیْہِ فَیَکُوۡنُ طَیْرًا بِإِذْنِ اللّٰہِ‘ (آل عمران ۳: ۴۹)
(میں تمہارے لیے پرندے کی شکل پر ایک پتلا مٹی سے بناؤں گا پھر اس میں پھونک مار دوں گا تو اللہ کے حکم سے وہ سچ مچ پرندہ بن جائے گا)
یہاں یہ اسی معنی میں ہے۔
تسویہ: ’تَسْوِیَۃٌ‘ کے معنی کسی شے کو ٹھیک ٹھاک کرنا، اس کو ہموار کرنا، اس کے نوک پلک سنوارنا۔ یہاں قرینہ دلیل ہے کہ یہ اسی آخری مفہوم میں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان اگر اپنی خِلقت ہی پر غور کرے تو اس کو یہ بات صاف نظر آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو یک بیک نہیں بنا کھڑا کیا ہے بلکہ اس قطرے کو گہر بنانے تک بہت سے مرحلوں سے گزارنا پڑا ہے۔ ایک دور وہ ہوتا ہے جب اس کا ابتدائی خاکہ بنتا ہے پھر آہستہ آہستہ وہ دور آتا ہے جب قدرت اس خاکے میں رنگ بھرتی اور اس کا مُوقلم اس کے نوک پلک سنوارتا ہے۔