Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 15

  1. فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ﴿15﴾

    1. فَاَمَّا الْاِنْسَانُپس جو انسان
    2. اِذَا مَا ابْتَلٰىهُجب اس کو آزمائے
    3. رَبُّهٗاس کا رب
    4. فَاَكْرَمَهٗاس کو عزت دے
    5. وَنَعَّمَهٗاور اسے نعمت دے
    6. فَيَقُوْلُتو وہ کہے
    7. رَبِّيْٓمیرا رب
    8. اَكْرَمَنِمجھے عزت دی
Translation · Tadabbur-e-Quran
لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا خداوند اس کا امتحان کرتا اور اس کو عزت و نعمت بخشتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ میرے رب نے میری شان بڑھائی ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انسان کا ایک مغالطہ: یہ اس مغالطہ سے پردہ اٹھایا جس میں مبتلا ہونے والے نعمت پا کر طغیان و فساد کی راہ اختیار کر لیتے ہیں اور جو نعمت سے محروم رہتے ہیں وہ یاس و نا امیدی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ مغالطہ یہ ہے کہ اس دنیا میں جس کو نعمت کی فراخی حاصل ہوتی ہے وہ یہ سمجھ بیٹھتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بڑی قدر و قیمت والا ہے اس وجہ سے اس نے اس کی شان بڑھا رکھی ہے۔ اس کے برعکس جو تنگئ رزق میں مبتلا ہوتا ہے وہ گمان کرتا ہے کہ خدا کی نظروں میں اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اس وجہ سے اس نے اس کو ذلتیں جھیلنے کے لیے چھوڑ دیا ہے۔ اس مغالطہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پہلا فخر و غرور میں مبتلا ہو کر طغیان و فساد کی راہ پر چل پڑتا ہے اور دوسرا مایوسی و نامرادی کا شکار ہو کر یا تو صحیح زندگی بسر کرنے کا حوصلہ ہی کھو بیٹھتا ہے یا قسمت آزمائی کی ایسی راہیں اختیار کر لیتا ہے جو اس کو خدا سے نہایت ہی دور لے جا پھینکتی ہیں اور وہ بالکل شیطان کے ہتھے چڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ اس دنیا میں انسان کی تنگی کی حالت پیش آئے یا فراخی کی، جو حالت بھی پیش آتی ہے، نہ اس کی سرفرازی کی خاطر پیش آئی نہ اس کی تذلیل و توہین کے لیے، بلکہ یہ دونوں ہی بطور امتحان پیش آتی ہیں۔ کسی کو اللہ فراخی بخشتا ہے تو اس سے مقصود اس کے شکر کو جانچنا ہوتا ہے کہ دیکھے وہ نعمتیں پا کر مغرور و متکبر اور دوسروں کو حقیر خیال کرنے والا بن جاتا ہے یا اپنے رب کا شکرگزار، فرماں بردار اور اس کے بندوں کا خدمت گزار بن کے زندگی بسر کرتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی کا رزق تنگ کر دیتا ہے تو اس سے مقصود اس کے صبر کا امتحان ہوتا ہے کہ دیکھے وہ اپنے رب کے فیصلہ پر قانع و مطمئن، حالات کے مقابلہ کے لیے مضبوط و استوار اور اپنے کردار میں پختہ و پائدار ثابت ہوتا ہے یا حوصلہ ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ انسان کے صبر و شکر کی پختگی ہی پر اس کے تمام دین کی پختگی کا انحصار ہے۔ اس وجہ سے ان دونوں چیزوں کا امتحان برابر ہوتا رہتا ہے جس نے اپنے اندر یہ دونوں صفتیں پیدا کر لیں تو اس کو نفس مطمئنہ کی دولت گراں مایہ حاصل ہو گئی اور آگے آپ دیکھیں گے کہ اسی کو اللہ تعالیٰ کے ہاں ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی حاصل ہو گی۔