تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 5
هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ﴿5﴾
- هَلْکیا کیا
- فِيْمیں
- ذٰلِكَاس
- قَسَمٌقسم
- لِّذِيْ حِجْرٍہر عقل مند کے نزدیک
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیوں ان میں تو ہے ایک عاقل کے لیے عظیم شہادت)
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
انسان کے ذی عقل ہونے کا فطری تقاضا:
’حِجْرٌ‘ کے معنی عقل کے ہیں۔ لفظ ’حجر‘ اور ’عقل‘ دونوں کا لغوی مفہوم قریب قریب ایک ہی ہے۔ ان دونوں ہی کے اندر روکنے اور باندھنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔ عقل انسان کو ان چیزوں سے باز رکھنے کے لیے ایک باطنی لگام ہے جو اس کے شایان شان نہیں ہیں اس وجہ سے اس کو ’حجر‘ سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔
اس آیت کا استفہامیہ اسلوب اپنے اندر زجر و ملامت کا مفہوم بھی رکھتا ہے اور اتمام حجت کا بھی۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جب اللہ تعالیٰ نے عقل جیسی نعمت عطا فرمائی ہے تو اس کے شایان شان بات یہ ہے کہ وہ ان نشانیوں سے سبق حاصل کرے جو اس کے گرد و پیش پھیلی ہوئی زبان حال سے اصلی راہ اور منزل کی نشان دہی کر رہی ہیں نہ کہ اس بات پر ضد کرے کہ جب وہ منزل سامنے آ جائے گی تب وہ مانے گا کہ بے شک جن لوگوں نے اس سے خبردار کیا تھا انھوں نے سچ کہا تھا۔ اس وقت مانا بھی تو حسرت کے سوا اس کو اس سے کیا فائدہ پہنچے گا! یہ مضمون اسی سورہ کی آیات ۲۳-۲۴ میں آگے آ رہا ہے، وہاں، ان شاء اللہ، اس کی وضاحت ہو گی۔
اتمام حجت کا پہلو یہ ہے کہ نشانیاں تو بے شمار ہیں جن کی طرف ان کو توجہ دلائی جا چکی ہے لیکن ان میں سے کوئی نشانی بھی ان کو قائل کرنے والی نہ بنی۔ اب یہ وہ نشانیاں ان کے سامنے رکھی گئی ہیں جو سب سے زیادہ واضح اور قریب ہیں اور اہل عقل کے لیے ان کے اندر بہت بڑی شہادت موجود ہے۔ لیکن یہ ہٹ دھرم ان سے بھی فائدہ اٹھانے والے نہیں ہیں۔