Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 6

  1. اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ﴿6﴾

    1. اَلَمْکیا نہیں
    2. تَرَتم نے دیکھا
    3. كَيْفَکیسا
    4. فَعَلَمعاملہ کیا
    5. رَبُّكَتمہارا رب
    6. بِعَادٍعاد کے ساتھ
Translation · Tadabbur-e-Quran
دیکھا نہیں، کیا کیا تیرے خداوند نے عاد کے ساتھ !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
تاریخ کی شہادت: اوپر کی آفاقی نشانیوں کی شہادت کے بعد یہ قوموں کی تاریخ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس کی شہادت بھی یہی ہے کہ اس دنیا کا خالق اس میں ابھرنے والی قوموں کے رویہ سے بے تعلق نہیں رہتا بلکہ وہ برابر گھات لگائے ان کی نگرانی کرتا رہتا ہے۔ جب وہ بے راہ ہوتی ہیں تو وہ اپنی حکمت کے تحت ایک خاص مدت تک ان کو مہلت تو ضرور دیتا ہے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر لیں، اگر اصلاح کرنی چاہیں ورنہ اپنا پیمانہ بھر لیں۔ پھر وہ ان کو پکڑتا ہے اور اس طرح پکڑتا ہے کہ ان کی ہستی ہی مٹا کر رکھ دیتا ہے۔ قوموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ معاملہ اس بات کی صاف شہادت ہے کہ اس مجموعی دنیا کے لیے بھی ایک روز حساب آئے گا جس میں ایک ایک فرد اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہو گا۔ پھر جو انعام کے مستحق ہوں گے وہ بھرپور انعام پائیں گے اور جو سزا کے مستحق ٹھہریں گے وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ ’عاد‘ کا ذکر پچھلی سورتوں میں، بار بار مختلف پہلوؤں سے گزر چکا ہے، یہاں ان کا ذکر ’اِرَم‘ کی نسبت کے ساتھ ہوا ہے۔ ’اِرَم‘ ان کے ان اجداد میں سے ہیں جن سے ان کی عسکری اور تعمیری ترقیوں کا آغاز ہوا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ سامی نسل کی اس شاخ سے تعلق رکھتے ہیں جو اِرَم بن سام بن نوحؑ سے چلی۔