Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 89. Al-Fajr · Ayah 7

  1. اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ﴿7﴾

    1. اِرَمَارم
    2. ذَاتِ الْعِمَادِستونوں والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ستونوں والے ارم کے ساتھ
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’عِمَادٌ‘ اونچنے ستونوں کو کہتے ہیں۔ یہ ان کی تعمیری ترقیوں کی تعبیر کے لیے اسی طرح کا کنایہ ہے جس طرح سورۂ سبا میں حضرت سلیمان علیہ السلام کے جود و کرم کی تعبیر ’جِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوۡرٍ رَّاسِیَاتٍ‘؂۱ (سبا ۳۴: ۱۳) کے الفاظ سے کی گئی ہے۔ قوم عاد نے سنگ تراشی کے آرٹ میں بہت ترقی کی۔ پہاڑوں کو ترشوا کر ان کے اندر انھوں نے نہایت خوبصورت ایوان و محل بنوائے۔ ان کے امراء کا خاص ذوق یہ تھا کہ ہر اونچی جگہ پر ان کی کوئی یادگار تعمیر ہو جائے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے پیغمبر، حضرت ہود علیہ السلام نے ان کے اس مسرفانہ اور نمائش پسندانہ شوق تعمیر پر ان کو ملامت بھی فرمائی۔ _____ ؂۱ حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس حوضوں کے مانند لگن اور لنگر انداز رہنے والی دیگوں کا ذکر ان کی فیاضی اور غرباء پروری کی شہادت کے طور پر ہوا ہے۔