Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 10

  1. وَ هَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِۚ﴿10﴾

    1. وَاور
    2. هَدَيْنٰهُہم نے اسے دکھائے
    3. النَّجْدَيْنِدو راستے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کو دونوں راہیں نہیں سمجھا دیں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نیکی اور بدی کا شعور انسان کی فطرت میں ہے: ’وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘۔ یعنی مشاہدہ و شعور اور نطق و بیان کی صلاحیت دینے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر یہ فضل بھی فرمایا کہ اس کو دونوں راستے بھی دکھا دیے۔ ’دونوں راستے‘ سے اشارہ انہی دونوں راستوں کی طرف ہے جن کا ذکر سورۂ دہر میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے: إِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوۡرًا (الدہر ۷۶: ۳) ’’ہم نے اس کو راہ بھی دکھا دی۔ چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا ناشکرا بنے۔‘‘ اس سے زیادہ واضح لفظوں میں سورۂ شمس میں فرمایا ہے: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا ۵ فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا (الشمس ۹۱: ۷-۸) ’’اور شاہد ہے نفس اور اس کی اعلیٰ ساخت، پس ہم نے اس کو الہام کر دی اس کی بدی اور نیکی۔‘‘ یہ اسی حقیقت کا بیان ہے جس کی وضاحت ہم سورۂ قیامہ کی تفسیر میں کر چکے ہیں کہ بدی کا بدی ہونا اور نیکی کا محبوب ہونا اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر ودیعت فرما دیا ہے۔ انسان اگر بدی کرتا ہے تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ بدی کے شعور سے محروم ہے بلکہ وہ جذبات سے مغلوب ہو کر بدی کو بدی جانتے ہوئے اس کا ارتکاب کرتا ہے۔