تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 11
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ٘ۖ﴿11﴾
- فَلَا اقْتَحَمَپس نہ داخل ہوا
- الْعَقَبَةَگھاٹی
Translation · Tadabbur-e-Quran
پر اس نے گھاٹی نہیں پار کی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نعمتوں کی ناقدری پر اظہار افسوس:
اب یہ مخاطبوں کی ناقدری و ناشکری کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شعور و ادراک، نطق و بیان اور ہدایت کی روشنی سے جو نوازا تو اس کا حق یہ تھا کہ یہ نیکی اور ہمدردئ خلق کی راہ کے عقبات عبور کرنے کی کوشش، اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شامل ہونے کا شرف اور ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی حاصل کرتے لیکن یہ اپنی زرپرستی اور پست ہمتی کے سبب سے یہ حوصلہ نہ کر سکے بلکہ ان کا مال ان کے لیے زنجیر پا بن گیا۔
نیکی اور بدی کے مزاج میں فرق: ’عَقَبَۃَ‘ کے معنی گھاٹی اور ’اِقْتِحَامٌ‘ کے معنی چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کے ہیں۔ یہاں اس لفظ سے نیکی کے ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو ہمدردئ خلق اور بندگئ رب کے نہایت اعلیٰ کام ہیں اور جن کی مثالیں آگے مذکور ہیں۔ ان کاموں کو انجام دینے کے لیے چونکہ انسان کو ایثار و قربانی سے کام لینا پڑتا ہے جو انسان پر شاق ہے اس وجہ سے اس کو ’اقتحام عقبۃ‘ (گھاٹی پار کرنے سے) تعبیر فرمایا۔ یہاں وہ حقیقت ملحوظ رہے جس کی طرف ہم جگہ جگہ اشارہ کر چکے ہیں کہ جتنے بھی اعلیٰ کام ہیں ان کے لیے چونکہ نفس کو اس کی نقد لذتوں سے موڑ کر بالکل مختلف سمت میں لے جانا پڑتا ہے اس وجہ سے وہ بہت شاق گزرتے ہیں۔ اس کے برعکس ادنیٰ کاموں کی لذتیں نقد ہیں اس وجہ سے نفس ان کی طرف فوراً چل پڑتا ہے۔ اس حقیقت کو سیدنا مسیح نے یوں واضح فرمایا ہے کہ نیکی کی راہ تنگ اور اس پر چلنے والے تھوڑے ہیں اور بدی کی راہ فراخ اور اس پر چلنے والے بہت ہیں۔ یہی حقیقت ’حفّت الجنۃ بالمکارہ‘ (جنت مشکلات سے گھیر دی گئی ہے) والی حدیث میں بھی واضح فرمائی گئی ہے۔