تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 90. Al-Balad · Ayah 4
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ كَبَدٍؕ﴿4﴾
- لَقَدْ خَلَقْنَاتحقیق ہم نے پیدا کیا
- الْاِنْسَانَانسان
- فِيْ كَبَدٍمشقت میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ ہم نے انسان کو بڑی مشقت میں پیدا کیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سرزمین مکہ کی پچھلی تاریخ کی طرف اشارہ:
’کَبَد‘ کے معنی مشقت اور شدت کے ہیں۔ لفظ ’اِنْسَان‘ اگرچہ عام ہے اور اس کے عام ہونے کے کئی فائدے ہیں لیکن یہاں اس عام سے مراد خاص طور پر قرآن کے اولین مخاطب بنی اسماعیل بالخصوص قریش ہیں۔ سرزمین حرم میں ان کے بزرگ اجداد کی آمد اور سکونت اور ان کی ذریت کی ابتدائی تاریخ کا حوالہ دے کر قریش کو متنبہ فرمایا گیا ہے کہ آج اس سرزمین میں تم کو جو فراخئ رزق و رفاہیت حاصل ہے یہ نہ سمجھو کہ یہی حال ہمیشہ سے رہا ہے یا یہ حالت تمہاری ذہانت و قابلیت کی بدولت ہوئی ہے۔ جس زمانے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بسایا ہے اس وقت یہ علاقہ ایک بالکل بنجر، بے آب و گیاہ اور غیر مامون علاقہ تھا۔ یہاں کے لوگوں کی زندگی خانہ بدوشانہ اور نہایت مشقت کی زندگی تھی۔ معاش کا انحصار گلہ بانی پر تھا اور ہر شخص اپنی زندگی اور اپنے گلے کی حفاظت کا ذمہ دار خود تھا۔ لوگوں کی حفاظت کے لیے کوئی نظام عدل اور قانون موجود نہیں تھا۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کو یہاں بسایا تو ان کے اور ان کی اولاد کے لیے یہ دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس وادئ غیر ذی زرع میں ان کو رزق و فضل سے بھی بہرہ مند فرمائے اور امن سے بھی متمتع رکھے۔ یہ اسی دعا کی برکت ہے کہ رزق کے دروازے بھی کھلے اور بیت اللہ کی تولیت اور اشہرحرم کی امن بخشی کی بدولت سفر اور تجارت کی راہیں بھی فراخ ہوئیں جس سے ان کی معاشی حالت مشقت کی جگہ رفاہیت و خوش حالی میں تبدیل ہو گئی یہاں تک کہ آج تم اس کے غرور میں نہ خدا کو خاطر میں لا رہے ہو نہ اس کے رسول کو بلکہ یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ یہ جو کچھ تمہیں حاصل ہے یہ تمہارا پیدائشی حق ہے، تم اس میں ہر قسم کے تصرف کے مجاز ہو، کسی کی طاقت نہیں ہے کہ تمہارے اس عیش اور اس آزادی میں خلل انداز ہو سکے۔
قریش کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے قرآن نے جگہ جگہ حرم کی اس تاریخ کی یاددہانی کر کے ان کو متنبہ فرمایا ہے کہ اگر وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمت پا کر طغیان میں مبتلا ہو گئے تو یاد رکھیں کہ وہ خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماریں گے۔ سورۂ ابراہیم میں اسی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے:
وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہٰذَا الْبَلَدَ آمِنًا وَاجْنُبْنِیْ وَبَنِیَّ أَن نَّعْبُدَ الأَصْنَامَ ۵ رَبِّ إِنَّہُنَّ أَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَإِنَّہُ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَإِنَّکَ غَفُوۡرٌ رَّحِیْمٌ ۵ رَّبَّنَا إِنِّیْ أَسْکَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِیُقِیْمُوا الصَّلاَۃَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْ إِلَیْْہِمْ وَارْزُقْہُمۡ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوۡنَ (ابراہیم ۱۴: ۳۵-۳۷)
’’اور جب کہ دعا کی ابراہیم نے اے میرے رب! اس سرزمین کو پرامن سرزمین بنا اور مجھ کو اور میری اولاد کو بچا کہ ہم بتوں کی پرستش کی چھوت سے آلودہ ہوں۔ اے میرے رب! ان بتوں نے تو لوگوں کے اندر سے ایک خلقِ کثیر کو گمراہ کر رکھا ہے۔ تو جو میری پیروی کرے وہ تو مجھ سے ہے اور جو میری نافرمانی کرے تو تو مغفرت فرمانے اور رحم کرنے والا ہے۔ اے ہمارے رب! میں نے اپنی ذریت میں سے بعض کو ایک بِن کھیتی کی زمین میں بسایا ہے، تیرے محترم گھر کے پاس، اے رب! اس لیے کہ یہ نماز کا اہتمام کریں تو لوگوں کے دل ان کی طرف تو مائل کر دے اور ان کو پھلوں کی روزی عطا فرما کہ یہ شکرگزاری کریں۔‘‘
ان آیات پر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو ان سے مندرجہ ذیل حقائق سامنے آئیں گے:
قریش کو چند حقائق کی یاددہانی:
۔۔۔ یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد میں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ایک غیرآباد اور بنجر علاقے میں جو بسایا تو اس لیے کہ اس کو مشرکانہ ماحول سے دور اور محفوظ رکھے۔
۔۔۔ اس علاقہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر فرمائی تاکہ ان کی ذریت اس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مرکز بنائے اور ساتھ ہی یہ دعا بھی فرمائی کہ اس مرکز اور ان کی ذریت کو خلق کی مرجعیت حاصل ہو۔
۔۔۔ یہ علاقہ اس وقت زمینی پیداوار اور امن سے بالکل محروم علاقہ تھا۔ اس وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کے باشندوں کے لیے روزی کی فراخی کی بھی دعا فرمائی اور علاقہ کے لیے امن کی بھی۔
مقصود اس تفصیل سے اس حقیقت کا اظہار ہے کہ آج قریش کو جو مال و جاہ اور جو سطوت و اقتدار بھی حاصل ہے اس میں نہ ان کی ذاتی سعی و تدبیر کو کوئی دخل ہے اور نہ ان کے خاندانی استحقاق کو بلکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا اور بیت اللہ کی برکت ہے جس سے وہ بہرہ مند ہو رہے ہیں اور یہ برکت ان کے لیے غیر مشروط نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی بندگی، بیت اللہ کے مقصد کی تکمیل اور ان کے اندر مبعوث ہونے والے رسول پر ایمان کے ساتھ مشروط ہے۔۱ اگر وہ ان شرطوں کے پابند رہیں گے تو ان کو یہ عزت و سرفرازی حاصل رہے گی ورنہ یہ سب چھن جائے گی۔
اسی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے قریش سے سورۂ قریش میں مطالبہ فرمایا ہے کہ اگر بیت اللہ کی برکتوں سے وہ بہرہ مند رہنا چاہتے ہیں تو اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ وہ اس گھر کے خداوند کی عبادت کریں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ اس گھر پر قابض اور اس کی برکتوں کے حق دار بنے رہیں۔ فرمایا ہے:
لِإِیْلَافِ قُرَیْْشٍ ۵ إِیْلَافِہِمْ رِحْلَۃَ الشِّتَاء وَالصَّیْْفِ ۵ فَلْیَعْبُدُوا رَبَّ ہَذَا الْبَیْْتِ ۵ الَّذِیْ أَطْعَمَہُم مِّن جُوعٍ وَآمَنَہُم مِّنْ خَوْفٍ (القریش ۱۰۶: ۱-۴)
’’بوجہ اس کے کہ قریش کو الفت بخشی گئی جاڑے اور گرمی کے سفر کی تو ان کو چاہیے کہ اس گھر کے خداوند کی عبادت کریں جس نے قحط میں کھلایا اور خطرے سے نچنت کیا۔‘‘
_____
۱ بعض دوسری آیات سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم سے امامت و سیادت کا جو وعدہ فرمایا تھا وہ مشروط بشرائط تھا۔ وہ لوگ اس سے مستثنیٰ کر دیے گئے تھے جو ان کے طریقہ کو چھوڑ بیٹھیں۔