تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 12
اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ﴿12﴾
- اِذِ انْۢبَعَثَجب اٹھ کھڑا ہوا
- اَشْقٰىهَااس کا بدبخت
Translation · Tadabbur-e-Quran
جب کہ اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے بڑا بد بخت
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’إِذِ انْبَعَثَ اَشْقَاہَا‘۔ یہ ان کے طغیان کی تفصیل ہے۔ ’اَشْقٰی‘ سے اشارہ ثمود کے لیڈر قدار کی طرف ہے جس کی شقاوت پوری قوم کی تباہی کا سبب ہوئی۔ ’انبعاث‘ کے معنی اٹھنے اور کمربستہ ہونے کے ہیں اور اس سے مراد اس کا اس جرم کے لیے کمربستہ ہونا ہے جس نے پوری قوم پر قہر الٰہی کے دروازے کھول دیے۔ اس اجمال کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے۔۱ جب قوم ثمود کے پیغمبر۔۔۔ حضرت صالح۔۔۔ نے لوگوں کو عذاب سے ڈرایا تو قوم نے سرکشی کے سبب سے یہ مطالبہ کیا کہ ان کو اس عذاب کی کوئی نشانی دکھا دی جائے ورنہ وہ ان کی بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حضرت صالح علیہ السلام نے ان کے مطالبہ پر ایک اونٹنی نامزد کر دی کہ یہ عذاب کی نشانی ہے۔ اگر تم نے اس کو کوئی نقصان پہنچایا تو عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا۔ ساتھ ہی ان کے لیے ایک امتحان بھی مقرر کر دیا کہ گھاٹ پر پانی پینے کی باری اس کے لیے مخصوص ہو گی۔ ایک دن یہ پانی پیے گی اور ایک دن تم اپنے جانوروں کو پلاؤ گے۔ بھلا یہ پابندی وہ کب گوارا کرنے والے تھے۔ انھوں نے اپنے لیڈر سے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ وہ جوش میں اٹھا اور اونٹنی کی کونچیں اس نے کاٹ دیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تین دن کی ان کو مہلت دی کہ اب بھی اگر وہ توبہ کرنی چاہیں تو کر لیں لیکن وہ اس مہلت سے اور بھی مغرور ہو گئے بالآخر عذاب نے ان کو بے نام و نشان کر دیا۔
_____
۱ ملاحظہ ہو آیات ۲۷-۲۹ کی تفسیر سورۂ قمر میں۔