تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 13
فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ﴿13﴾
- فَقَالَتو کہا
- لَهُمْان سے
- رَسُوْلُ اللّٰهِاللہ کے رسول
- نَاقَةَ اللّٰهِاللہ کی اونٹنی
- وَسُقْيٰهَااور اس کی پانی کی باری
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو اللہ کے رسول نے آگاہ کیا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پینے کی باری سے خبر دار !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’فَقَالَ لَہُمْ رَسُوۡلُ اللہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَسُقْیَاہَا‘۔ جب حضرت صالح علیہ السلام نے دیکھا کہ فی الواقع یہ بدبخت عذاب کی دیوار توڑ دینے پر تل ہی گیا ہے تو انھوں نے آخری تنبیہ فرمائی کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کی پانی پینے کی باری سے خبردار رہیو، ورنہ عذاب الٰہی آ دھمکے گا۔
’نَاقَۃَ اللّٰہِ‘ کا نصب بربنائے تحذیر ہے۔ یعنی یہاں کوئی فعل محذوف مانیں گے جو آگاہ اور خبردار کر دینے کے معنی میں ہو گا۔ فعل کے حذف کر دینے میں یہ بلاغت ہے کہ سامع کی پوری توجہ اصل بات پر مرکوز کر دی جائے۔ کسی خطرے سے آگاہ کرنے کے لیے یہ اسلوب ہماری زبان بلکہ ہر زبان میں موجود ہے۔