تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 91. Ash-Shams · Ayah 14
فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ﴿14﴾
- فَكَذَّبُوْهُپھر اس کو جھٹلایا
- فَعَقَرُوْهَاپھر اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں
- ١ فَدَمْدَمَپھر ہلاکت ڈالی
- عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْان پر۔ ان کا رب
- بِذَنْۢبِهِمْانکے گناہ کے سبب
- فَسَوّٰىهَاپھر انہیں برابر کردیا
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو انہوں نے اس کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کوچیں کاٹ دیں تو اللہ نے ان کے گناہ کی پاداش میں ان پر اپنا عذاب الٹ دیا اور ان کا ستھرائوکر دیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
’فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا‘۔ یعنی انھوں نے جس طرح پہلے عذاب کی دھمکی کو جھٹلایا تھا اسی طرح پیغمبر کی اس آخری وارننگ کی بھی کوئی پروا نہیں کی بلکہ ان کی تکذیب کر دی کہ یہ محض ایک دھونس اور ڈراوا ہے۔ چنانچہ جو کچھ کرنا تھا بے دھڑک کر گزرے۔
’عقر‘ کے معنی اونٹ کی کونچیں کاٹ دینے کے ہیں۔ اس کے بعد اونٹ لازماً مر جاتا ہے اس وجہ سے لازم معنی کے طور پر قتل کر دینے کے معنی میں بھی یہ آتا ہے لیکن لفظ کا اصل مفہوم وہی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔
قرآن کے فلسفۂ تاریخ کا ایک نکتہ: یہاں ایک بات خاص طور پر نگاہ میں رکھنے کی ہے کہ اونٹنی کے قتل کا ارتکاب قوم کے اندر سے اگرچہ ایک ہی شخص نے کیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کا مجرم پوری قوم کو ٹھہرایا اور اس کی سزا بھی پوری قوم کو دی۔ اس سے قرآن کے فلسفۂ تاریخ کا یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک شخص کے جرم میں پوری قوم کو سزا دیتا ہے اگر قوم اس جرم پر راضی ہو۔ اس کے وبال سے صرف وہی لوگ بچتے ہیں جو اپنی استطاعت کی حد تک اس کی اصلاح کے لیے جو کچھ کر سکتے ہوں کر گزریں اور اگر کچھ نہ کر سکتے ہوں تو ایمان کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ اس سے بیزار اور کنارہ کش رہیں۔ اس سے نیچے نہ ایمان کا کوئی درجہ ہے نہ خدا کی پکڑ سے بچنے کی کوئی سبیل۔
ثمود کے عذاب کی نوعیت: ’فَدَمْدَمَ عَلَیْْہِمْ رَبُّہُمۡ بِذَنۡبِہِمْ‘۔ ’دَمْدَمَۃ‘ کے معنی ہلاک کر دینے کے ہیں لیکن اس کے اندر عذاب کی شدت اور بے پناہی کا مضمون بھی مضمر ہے جو مجرد ’ہلاک کر دینے‘ کے لفظ سے واضح نہیں ہوتا۔ اگر اس کو ٹھیک ٹھیک تعبیر کرنا چاہیں تو یوں کہہ سکتے ہیں کہ تب ان کے خداوند نے ان کے اوپر دھما دھم عذاب برسا دیا۔ قرآن میں
’فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ‘ (الفجر ۸۹: ۱۳)
(اور ان پر تیرے خداوند نے عذاب کے کوڑے برسا دیے)
کا اسلوب بیان بھی استعمال ہوا ہے، وہ بھی اسی نوعیت کا ہے۔ سورۂ قمر کی آیت ۳۷ کے تحت ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان پر جو عذاب آیا وہ سرما کے بادلوں، ژالہ باری، ہولناک کڑک، دمک اور طوفانی ہوا کا مجموعہ تھا۔ اس طرح کے عذاب کے لیے لفظ ’دَمْدَمَ‘ نہایت موزوں ہے۔
اونٹنی عذاب کی نشانی تھی: ’بِذَنۡبِہِمْ‘۔ یعنی یہ عذاب ان کے اوپر ان کے اس جرم کے سبب سے آیا کہ انھوں نے اللہ اور رسول کی تنبیہ کے باوجود اونٹنی کو گزند پہنچانے کی جسارت کی۔ یہ اونٹنی عذاب الٰہی کی نشانی تھی اور، جیسا کہ سورۂ قمر کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے، یہ بطور امتحان مقرر کی گئی تھی کہ اندازہ ہو جائے کہ قوم کا طغیان کس درجے تک پہنچ چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس جرم کے بعد اگر ان کو ڈھیل ملتی تو وہ خود اللہ کے رسول پر ہاتھ ڈالنے کی جسارت کر گزرتے اور یہ وہ جرم ہے جس کی مہلت اللہ تعالیٰ کسی قوم کو نہیں دیتا بلکہ جب کسی قوم نے رسول کے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو وہ لازماً تباہ کر دی گئی ہے۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت اس کے محل میں ہو چکی ہے۔
قریش کے مخفی ارادوں کی طرف ایک اشارہ: معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورہ اس دور میں نازل ہوئی ہے جب قریش کے لیڈروں نے دارالندوہ اور اپنی نجی مجلسوں میں آنحضرت ﷺ کے قتل کے مشورے شروع کر دیے تھے۔ یہ مشورے چونکہ خفیہ تھے اس وجہ سے قرآن نے بھی علانیہ کی بجائے اشارات کی زبان میں ان کو آگاہی دے دی کہ اگر وہ کوئی ارادۂ بد اپنے دل میں پرورش کر رہے ہیں تو دور تک اس کے نتائج پر نگاہ ڈال لیں۔
’فَسَوَّاہَا‘۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب برسایا تو ان کا بالکل ستھراؤ کر کے رکھ دیا۔ ضمیر مفعول کا مرجع ثمود اور ارض ثمود دونوں ہو سکتے ہیں۔
نہ نادر بجا ماندو نے نادری!