Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 92. Al-Lail · Ayah 4

  1. اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ﴿4﴾

    1. اِنَّبیشک
    2. سَعْيَكُمْتمہاری کوشش
    3. لَشَتّٰىمختلف
Translation · Tadabbur-e-Quran
کہ تمہاری کمائی الگ الگ ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نیک اور بد دونوں کی کمائی یکساں نہیں ہو گی: یہ وہ اصل دعویٰ ہے جو اوپر کی شہادتوں سے ثابت کیا گیا ہے۔ یعنی کائنات میں ہر چیز کا جوڑا جوڑا ہونا اور اپنے جوڑے ہی کے ذریعہ سے ہر چیز کا اپنی غایت اور مقصد کو پہنچنا چاہتا ہے کہ اس دنیا کا بھی جوڑا ہے اور وہ ہے آخرت جو لازماً ظہور میں آئے گی تاکہ یہ دنیا اپنی غایت اور اپنے مقصود کو پہنچے ورنہ یہ بالکل عبث اور بے غایت بن کے رہ جائے گی۔ اگر آخرت نہیں ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ خالق کے نزدیک نیکی کرنے والے اور بدی کرنے والے دونوں یکساں ہیں۔ ایک حکیم خالق کی شان کے یہ بالکل خلاف ہے کہ وہ نیک اور بد دونوں کی جدوجہد اور کمائی کو یکساں کر دے۔ لفظ ’سعی‘ جدوجہد کے معنی میں بھی آتا ہے اور نتیجۂ جدوجہد یعنی کمائی کے معنی میں بھی۔ یہاں اسی دوسرے معنی میں ہے۔ قرآن میں اس معنی کی نظیر موجود ہے۔ مثلاً فرمایا ہے: ’وَأَنْ لَّیْْسَ لِلْإِنۡسَانِ إِلَّا مَا سَعٰی ۵ وَأَنَّ سَعْیَہُ سَوْفَ یُرٰی‘ (النجم ۵۳: ۳۹-۴۰) (اور یہ کہ انسان کو نہیں ملے گی مگر اپنی کمائی اور بے شک اس کی کمائی عنقریب ملاحظہ میں آئے گی)۔ قیامت کا اثبات اس کی ضرورت کے پہلو سے: ’شَتّٰی‘ جمع ہے ’شَتِیْتٌ‘ کی جس کے معنی متفرق اور الگ کے ہیں یعنی عقل اور فطرت کا بدیہی تقاضا ہے کہ نیکوں اور بدوں دونوں کی سعی کا نتیجہ ایک ہی شکل میں نہ برآمد ہو بلکہ ان کی جدوجہد کے اعتبار سے الگ الگ ہو۔ جنھوں نے نیکی کمائی ہو وہ اس کا صلہ فضل و انعام کی شکل میں پائیں اورجنھوں نے بدی کمائی ہو وہ اس کے انجام سے دوچار ہوں۔ گویا قیامت کا دعویٰ یہاں اس کی اصل ضرورت کے پہلو سے سامنے رکھا ہے کہ اس کا آنا اس وجہ سے ضروری ہے کہ قیامت اور جزا و سزا کے بغیر یہ دنیا ایک اندھیر نگری اور ایک کھلنڈرے کا کھیل بن کے رہ جاتی ہے چنانچہ قیامت کو نہ ماننے والوں سے اللہ تعالیٰ نے یہ سوال کیا ہے کہ ’أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاکُمْ عَبَثًا وَأَنَّکُمْ إِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘ (المومنون ۲۳: ۱۱۵) (کیا تم نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم نے تم کو بالکل عبث پیدا کیا ہے، تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جاؤ گے!) یہی سوال منکرین قیامت ہی سے، دوسرے مقام میں بانداز تعجب، یوں کیا گیا ہے: ’أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۵ مَا لَکُمْ کَیْْفَ تَحْکُمُونَ‘ (القلم ۶۸: ۳۵-۳۶) (کیا ہم فرماں برداروں کو مجرموں کے مانند کر دیں گے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے، تم کیسے فیصلے کرتے ہو!)